پولیس اہلکار نے باپ بیٹا قتل کر دیے
راولپنڈی میں درج کیے گے ایک مقدمے کے مطابق ایک پولیس اہلکار نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں گھس کر دو افراد کو سرکاری پستول سے فائرنگ کر کے قتل کر لیا ہے۔ ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
بتایا جا رہا ہے کہ پولیس افسران نے پیٹی بھائی کو بچانے کے لیے مقدمہ کمزور دفعات کے تحت درج کیا ہے۔
ملزم اہلکار پیرودھائی تھانہ تعینات ہے۔ دو دن قبل مقتول کے خاندان سے جھگڑا ہوا تھا۔ مقتول زخمی حالت میں ایمرجنسی میں زیر علاج تھا جبکہ اس کا بیٹا نوید بھی ہسپتال میں موجود تھا۔
ادھر راولپنڈی پولیس نے اسلام آباد میں دہرے قتل میں ملوث ملزم محمد ارشد کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم ارشد گھریلو تنازعہ پر اپنی بیوی اور ساس کو قتل کر کے فرار ہو گیا تھا۔ ملزم کے خلاف تھانہ رمنا میں مقدمہ درج ہے۔
راولپنڈی سے صحافی یاسر حکیم کے مطابق گنجمنڈی پولیس دہرے قتل میں ملوث پولیس اہلکار کی گرفتاری میں ناکام ہوگئی ہے۔
ڈی ایچ کیو ایمر جنسی میں قتل ہونے والے باپ بیٹے کی میتیں پوسمارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہیں جو انہیں لے کر کلرسیداں کی یونین کونسل سموٹ روانہ ہوگئے ہیں۔
لہراسب اور نوید کو مبینہ طور پر پولیس اہلکار تحسین نے فائرنگ کرکے قتل کیا تھا۔
راولپنڈی ڈسٹرکٹ ہسپتال کی ایمر جنسی میں باپ بیٹے کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ ایف آئی آر278 قتل کی دفعہ 302 کے تحت درج کی گئی جس کے مدعی مقتول لہراسب کے بھتیجے راشد خان ہیں۔
ملزم راولپنڈی پولیس کی محافظ فورس فورس میں تعینات ہے۔ دہرے قتل کے واقعہ میں قاتل پولیس اہلکار نے اپنا سرکاری پستول استعمال کیا
ہسپتال سے فرار ہوتےوقت روکنے والے پولیس اہلکارپر بھی فائر کیا تھا ۔ پولیس کی جانب سے مقدمے کے اندراج میں قانونی نکات نظرانداز کردیے گئے۔
راولپنڈی پولیس کے سربراہ نے ملزم کانسٹیبل تحسین طارق کو معطل کر دیا ہے۔
ہسپتال گیٹ پر تعینات ہیڈ کانسٹیبل عابد حسین، ایمرجنسی وارڈ میں موجود کانسٹیبل راشدبھی معطل کیے گئے۔
ہسپتال سیکورٹی میں غفلت پرمعطل کئے گئےملازمین کے خلاف محکمانہ انکوائری کا بھی حکم دے دیا گیا ہے۔
سی پی او دفتر کے مطابق سیکورٹی ڈیوٹی والے ملازمین کیوں بھاگے؟غفلت ثابت ہونے پرملازمت سے بر خاست کیاجائے گا۔ ملزم کانسٹیبل کے خلاف بھی سخت محکمانہ کارروائی ہو گی۔

