متفرق خبریں

پولیس پر قتل کا مقدمہ درج مگر

ستمبر 2, 2019

پولیس پر قتل کا مقدمہ درج مگر

پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں ایس ایچ او سمیت پولیس کے چار اہلکاروں کے خلاف ذہنی معذور صلاح الدین کو تشدد کے ذریعے قتل کرنے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

مقدمہ مقتول کے والد کی درخواست پر درج کیا گیا ہے۔

صلاح الدین کی اے ٹی ایم مشین توڑنے کی ویڈیو نے لوگوں کو ہنسایا تھا اس کی پولیس حراست میں موت نے ہر کسی کو رلا دیا۔

سوشل میڈیا پر صارفین نے پنجاب پولیس، حکومت اور معاشرتی رویوں پر سخت تنقید کی ہے۔ ”ہندل نامہ“ کے عنوان سے کی گئی ایک پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ

”ذرا یہ ویڈیو غور سے سنیں سب سمجھ جائیں گے آپ کہ صلاح الدین کو کون سا "دل کا دورہ” پڑا
تم نے یہ اشارے کہاں سے سیکھے؟
پولیس اہلکار
اگر جان کی امان پاؤں تو ایک سوال میں بھی کروں ؟
صلاح الدین
پوچھو
پولیس اہلکار
آپ نے یہ مارنا (تشدد) کرنا کہاں سے سیکھا ؟
صلاح الدین
اور پھر جان کی امان نہ مل سکی
اور
صلاح الدین مارا گیا!
عوام کو پاگل سمجھ رکھا ہے کیا ؟
کیا بھونڈا الزام ہے کہ صلاح الدین اے ٹی ایم کارڈ مشینوں سے چوری کر کے ایک گروہ کو بیچتا تھا ؟
صلاح الدین کو کون اطلاع دیتا تھا کہ فلاں مشین میں کارڈ پھنسا ہوا ہے جا کر نکال لو ؟
کیسا پاگل چور تھا کہ اے ٹی ایم مشین توڑ کر صرف کارڈ نکالا تھا پیسے چھوڑ دیتا تھا ؟
کارڈ پر کیا اس کا پاس ورڈ بھی لکھا ہوتا تھا کہ وہ گروہ اس چوری شدہ کارڈز سے پھر رقم نکال لیتا تھا ؟
یہ پہلا “چور” تھا جس کی معصومانہ حرکتیں دیکھ کر اس پر بہت پیار آیا
کیا چور ایسے ہوتے ہیں؟
رپورٹس کے مطابق، صلاح الدین ذہنی طور پر کچھ کمزور تھا
اگر یہ چور ہوتا تو کیمروں سے اپنا چہرہ چھپاتا
اگر یہ چور ہوتا تو ATM میں پڑے لاکھوں اُڑا لے جاتا

پھر جب کل اس کی پولیس کی حراست میں ووڈیوز آئیں تو اس پر بدترین تشدد بالکل عیاں تھا
مگر کل ہمارا میڈیا اسے اک چٹ پٹی اور مزاحیہ خبر کے طور پر چلاتا رہا


اگر کل ہی ہمارا میڈیا پولیس تشدد پر آواز اٹھا دیتا تو شاید یہ معصوم بچ جاتا۔

پتا نہی کیوں اس کی موت کا پڑھ کر دل بہت اداس ہو گیا ہے۔

مجھے بلکل بھی یقین نہیں کہ شیخ زید ہسپتال کے ڈاکٹر اس لاوارث کا درست پوسٹ مارٹم کریں گے۔
مجھے یقین ہے کہ اس پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ملزمان کو بچانے کا مکمل چارہ کیا جائے گا

ہمیں مل کر صلاح الدین کو موت کے بعد انصاف دلانے کے لئے آواز اٹھانی ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے