’انڈیا کلبھوشن کی واپسی کے لیے پرعزم‘
پاکستان نے زیرحراست مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کو قونصلر رسائی فراہم کی ہے جس کے بعد انڈیا نے کہا ہے کہ کلبھوشن پر پاکستانی حکام اپنا بیان دہرانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
انڈین دفترخارجہ کے ترجمان نے اسلام آباد میں ڈپٹی ہائی کمشنر کی کلبھوشن سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ وزیر خارجہ نے کلبھوشن جادھو کی والدہ سے بات کی ہے اور انھیں ملاقات کے احوال سے آگاہ کیا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘حکومت اس بات پر پرعزم ہے کہ جادھو کو انصاف ملے اور وہ انڈیا واپس صحیح سلامت پہنچیں۔’
عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کرانے کے بعد پاکستان کے دفترِ خارجہ سے جاری ہونے بیان کے مطابق کلبھوشن کی انڈین سفارتکار سے ملاقات 12 بجے دوپہر شروع ہوئی اور دو گھنٹے تک جاری رہی۔
بیان کے مطابق یہ ملاقات حکومتِ پاکستان کے نمائندوں کی موجودگی میں ہوئی تاہم انڈین درخواست پر گفتگو کی زبان کے حوالے سے کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی تھی۔
دفترِ خارجہ کے مطابق معاملات کو شفاف رکھنے کے لیے ملاقات اور بات چیت کو ریکارڈ بھی کیا گیا اور اس بارے میں انڈین حکام کو پہلے ہی مطلع کر دیا گیا تھا۔
انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رویش کمار کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انڈین ہائی کمشنر پیر کو کلبھوشن جادھو سے ملے اور یہ ملاقات عالمی عدالت انصاف کے 17 جولائی 2019 کے فیصلے کے مطابق ہوئی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں تفصیلی رپورٹ کا انتظار ہے لیکن یہ واضح ہے کہ جادھو پر منفی بیانیہ دہرانے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کے غلط دعوؤں کو فروغ ملے۔’
انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق انڈین حکومت تفصیلی رپورٹ حاصل کرنے کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل کا تعین کرے گی اور اس چیز کا جائزہ لیا جائے گا کہ عالمی عدالتِ انصاف کے احکامات کی کتنی پاسداری کی جا رہی ہے۔

