’باپ کے پیسے‘ کی واپسی سپریم کورٹ میں
پاکستان میں وزیراعظم عمران خان نے اٹارنی جنرل سے کہا ہے کہ وہ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) سے متعلق صدارتی آرڈیننس کا معاملہ جلد سماعت کے لیے سپریم کورٹ کے سامنے رکھے۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ پہلے ہی اس کیس میں نظرثانی درخواستیں بھی مسترد کر چکی ہے جبکہ نئی قانون سازی کے بعد اس سرچارج/سیس کو مختلف ہائیکورٹس میں چیلنج کیا گیا تھا اور اس میں چند اپیلیں سپریم کورٹ میں بھی زیر التوا ہیں۔
بدھ کو وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے صدارتی آرڈی ننس کے ذریعے 208 ارب روپے معاف کیے جانے پر وضاحت آنے کے بعد رات گئے اٹارنی جنرل کے دفتر کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس معاملے میں عدالت عظمی میں جلد سماعت کی درخواست دائر کریں اور صوبائی ہائیکورٹس سے بھی رجوع کیا جائے جہاں یہ مقدمات زیر التوا ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس سے متعلق آرڈیننس واپس لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے جاری بیان میں کہا تھا کہ وزیراعظم قوم کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ عدالت سے فیصلہ ہمارے خلاف آنے کا بھی خدشہ ہے۔
عدالت جانے سے پوری رقم 417 ارب روپے واپس مل سکتے ہیں یا پھر 295 ارب روپے واپس کرنے کا بوجھ اٹھانا ہو گا۔ وزیراعظم کے مطابق آرڈیننس جاری کرنے کا مقصد عدالت کے باہر مذاکرات کے ذریعے 50 فیصد رقم وصول کرنا تھا۔
بدھ کو پانچ وفاقی وزرا کو وزیراعظم عمران خان کے دفتر سے جاری بیان کے بعد وضاحت کے لیے پریس کانفرنس بھی کرنا پڑی تھی۔
خیال رہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین نے 300 ارب روپے کے اس معاملے پر فیس بک اور ٹوئٹر پر ٹرینڈ چلا کر حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ہے جس میں سب سے اہم عمران خان کا ایک ویڈیو کلپ ہے جس میں وہ سابق حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہ تمہارے باپ کا پیسہ تھا‘۔

