ہائیکورٹ جج کی ویڈیو کا جائزہ لے سکتی ہے
پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی نظرثانی درخواست پر کہا ہے کہ ہائیکورٹ عدالتی آبزرویشنز سے متاثر ہوئے بغیر جج ارشد ملک کے ویڈیو کیس کا آزادانہ فیصلہ کرے۔
رپورٹ: جہانزیب عباسی
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے جج ویڈیو سکینڈل کیس فیصلے پر نظر ثانی درخواستوں کی سماعت کی۔
سپریم کورٹ اس کیس میں یہ قرار دے چکی ہے جج ارشد ملک کی وجہ سے پوری عدلیہ کا سر شرم سے جھک گیا۔
سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے ارشد ملک کی ویڈیو کا جائزہ لینے کیلئے عائد شرائط ختم کرنے کی استدعا کی تھی۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل نے جب ویڈیو کو جانچنے سے متعلق شرائط پر دلائل دیے تو چیف جسٹس نے کہا کہ ”ویڈیو کو جانچنے سے متعلق شرائط اکیڈمک مشق تھی، ہم کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کریں گے، یہ تاثر غلط ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے سبب ہائیکورٹ نے شکنجہ کس دیا۔“
چیف جسٹس نے مزید کہا ہم نے پہلے بھی فیصلے میں کہا تھا کوئی عدالت ہماری آبزرویشنز سے متاثر نہ ہو، ہم تفصیلی فیصلے میں دوبارہ لکھ دیں گے ہائیکورٹ عدالتی آبزرویشن سے متاثر ہوئے بغیر آزادانہ فیصلہ کرے۔
سپریم کورٹ نے نواز شریف کی نظر ثانی اپیل نمٹاتے ہوئے کہا کہ وقت میں جدت آنے کے ساتھ کسی بھی آڈیو یا ویڈیو کا جائزہ لینے کے طریقہ کار میں تبدیلی آتی رہتی ہے،عدالت نے اس وقت موجود ویڈیو کا جائزہ لینے سے متعلق قانونی نکات کو واضح کیا تھا۔

