پاکستان24

’مسئلہ درپیش ہو تو مہرے تبدیل کرتے ہیں‘

اپریل 13, 2020

’مسئلہ درپیش ہو تو مہرے تبدیل کرتے ہیں‘

پاکستان کی سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی وفاقی حکومت اور چاروں صوبائی حکومتوں سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فیصلوں اور عمل درآمد کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

قبل ازیں چیف جسٹس گلزار احمد نے وزیراعظم کے مشیر برائے صحت ظفر مرزا کو عہدے سے ہٹانے کی بات کی تھی جس کی اٹارنی جنرل نے مخالفت کی اور کہا کہ اس موقع پر ایسا حکم تباہ کن نتائج کا حامل ہوگا۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد کے حکومت اور وفاقی وزرا کے بارے میں ریمارکس پر تحفظات ظاہر کیے ہیں اور عدالت سے کہا ہے کہ ایسی باتوں کا اثر پڑے گا، گریز کیا جائے۔

جہانزیب عباسی، صحافی۔ اسلام آباد

پیر کو سپریم کورٹ میں ہسپتالوں میں ناکافی سہولیات کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے حکومت کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ابھی تک کچھ بھی نہیں کیا گیا، وزراء اور مشیروں کی فوج در فوج ہے مگر کام کچھ نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مشیروں کو وفاقی وزراء کا درجہ دے دیا، مبینہ طور پر مشیر، وزیر مملکت، معاون خصوصی اور سیکرٹریز اعلیٰ جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔

اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس سے کہا کہ ’پر آپ ایسی بات نہ کریں، آپ کے کمنٹ کا اثر پڑے گا۔‘

چیف جسٹس گلزار احمد نے جواب میں کہا کہ انہوں نے مبینہ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس وقت ظفر مرزا کیا ہے اور اس کی کیا صلاحیت ہے؟ یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ ستھرے ہیں یا نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہمارے وزیراعظم تو صرف یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہمارا قرضہ معاف کیا جائے۔ عوام کے لیے نوکریاں پیدا کی جانی چاہئیں۔‘

چیف جسٹس نے حالیہ انکوائری رپورٹس کا نام لیے بغیر کہا کہ ’آپ کے وزیراعظم تو صرف ایک دوسرے کی جگہ تبدیل کر سکتے ہیں۔ جب بھی حکومت کو مسئلہ درپیش ہو مہرے تبدیل کرنا شروع ہو جاتی ہے۔‘

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’مجھے علم ہے آپ کا اشارہ کس طرف ہے۔‘

چیف جسٹس نے کہا کہ پورے ملک میں کورونا سے نمٹنے کے لیے ایک جیسے قوانین کیوں نہیں بناتے؟ سندھ ایک قانون بنا رہا ہے اور وفاق دوسرا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہی پاکستان کے آئین کا تقاضا ہے اور اٹھارویں ترمیم میں یہی کہا گیا ہے۔ سپریم کورٹ سیاست دانوں کے بیانات پر نہ جائے، عدالت کو چلانے کا الگ طریقہ کار ہوتا ہے، امریکہ میں بھی سیاست دان بیان بازی کرتے ہیں۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ ’ہم کسی پر نہ تنقید کر رہے ہیں نہ حوصلہ شکنی، ہمیں اجتماعی طور پر سوچنا ہوگا، عوام تلملا رہے اور لوگ بھوک سے مر رہے۔

جسٹس قاضی امین کا کہنا تھا کہ حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تھا جو ابھی تک نظر نہیں آ رہا، صدر مملکت کو چاہیے کہ وہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلائیں۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے معاملات میں پارلیمنٹ ہی عوام کی امید ہوتی ہے، اگر ہم نے ادراک نہ کیا تو کورونا وائرس ہمارے سیاسی نظام کی دھجیاں بکھیر دے گا، ایک پارٹی دوسری پارٹی کے خلاف پریس کانفرنس کر رہی ہے، سب کو مل جل کر چلنا ہوگا۔

جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ لوگوں کو گھروں میں بند کیا ہوا ہے، لاک ڈاؤن کے نام پر ایک غریب آدمی کو سڑک پر جوتے مارے جا رہے ہوتے ہیں جبکہ دوسری طرف جنازے میں تمام لوگ پہلی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ سکھر، تھر پارکر اور حیدرآباد میں لوگ رو رے ہیں۔ امداد لینے کیلئے لوگ جڑ جڑ کر کھڑے ہوتے ہیں، سماجی فاصلے ہی ہدایات کا کام تو ایک طرف رہ گیا ہے۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ حکومت نے جو علاقے بند کیے ہیں کیا وہاں کا ڈیٹا جمع کیا ہے، کیا ان لوگوں کو راشن پہنچایا ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ اگر لوگ ہماری بات نہ مانیں تو ہم کیا کریں۔ جسٹس قاضی امین نے جواب میں کہا کہ اگر حکومت قانون نافذ نہیں کروا سکتی تو پھر سرنڈر کر دے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے