امریکی جرنیل نے قوم سے معافی مانگ لی
امریکہ کے جائنٹ چیفس کے چیئرمین جنرل مارک ملی نے قوم سے معافی مانگی ہے اور کہا ہے کہ ان کو اس تصویر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے تھا جس سے تاثر ابھرا کہ فوج داخلی سیاست میں ملوث ہو رہی ہے۔
امریکی ٹی وی چینلز پر براہ راست دکھائی گئی ایک تقریر میں جنرل مارک ملی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ ان کی ایک تصویر نے قومی بحث کو جنم دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ایک ایسی جگہ پر صدر کے ساتھ نظر آنا جہاں داخلی سیاست سے متعلق بات ہو رہی تھی میرے لیے افسوس ناک ہے اور اس پر معذرت کرتا ہوں۔ مجھے وہاں نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘
جنرل مارک ملی نے کہا کہ ’بطور کمیشنڈ افسر وہاں موجود ہونا میری غلطی تھی اور میں نے اس سے سیکھا ہے۔ اور مجھے امید ہے کہ ہم سب اس طرح کی باتوں سے سیکھتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم (فوجی) اپنی قوم کا حصہ ہیں اور قوم سے آتے ہیں۔ اور ہمیں ایک غیر سیاسی فوج کے طور پر ہی رہنا ہے جس کی جڑیں پیشہ ورانہ طور پر اپنی زمین سے جڑی ہیں۔‘
واضح رہے کہ امریکہ میں سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے بعد صدر ٹرمپ کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کارروائی کے بیانات پر سول سوسائٹی اور فوجی افسران نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا اور جنرل مارک ملی بھی ایک ہی جگہ موجود تھے جہاں امریکی صدر نے مظاہرین سے نمٹنے کی بات کی اور تصاویر بنوائیں۔
ایک تصویر میں جنرل مارک ملی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک طرف کھڑے ہیں۔

