بجٹ: دفاع کے لیے 1289، تعلیم کے لیے 30 ارب
پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت نے اپوزیشن کے احتجاج کے دوران مالی سال 2021-2020 کے لیے اربوں روپے کے خسارے کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کو معاشی بحران ورثے میں ملا۔
حماد اظہر نے بتایا کہ بجٹ میں دفاع کے لیے 1289 ارب روپے، خوراک و زراعت کے لیے 12 ارب روپے مختص کیے جبکہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقدامات کے لیے 6 ارب روپے اور سائنس و ٹیکنالوجی کے لیے 20 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ قومی شاہراہوں کے لیے 118 ارب، شعبہ صحت کے لیے 20 ارب اور تعلیم کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ڈومیسٹک ٹیکسز میں 27 فیصد اضافہ ہوا۔
‘بجٹ خسارہ گزشتہ حکومت میں 23 سو ارب پر پہنچ چکا تھا اور ملک دیوالیہ کے قریب تھا۔’ اس پر اپوزیشن ارکان کی جانب سے شور شرابہ کیا گیا۔
حماد اظہر نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دو سال کے دوران کرپشن کا خاتمہ ،احتساب رہ نما اصول رہے۔ ’مشکل سفر سے ابتدا کی معیشت کی بحالی کیلئے اقدامات کیے۔‘
انہوں نے کہا کہ مطلوبہ اہداف کے حصول کیلئے عوام کے تعاون کی ضرورت ہے۔
بجٹ 2020-21 میں اعلیٰ تعلیم کے لیے 64 ارب، سی پیک کے لیے 118 ارب، مواصلات کے لیے 37 ارب ، آبی وسائل میں بہتری کے لیے 69 ارب ، مدرسوں میں نصابی اصلاحات اور ای اسکولز کے قیام کے لیے 5 ارب، فنکاروں کی مالی امداد کے لیے ایک ارب،لاہور کراچی اور وفاق کے ہسپتالوں کے لیے 13 ارب، کورونا سے نمٹنے کے لیے 70 ارب، سماجی شعبے کے لیے 250 ارب، بجلی کا ترسیلی نظام بہتر بنانے کے لیے 80 ارب، طبی آلات کی خریداری کے لیے 71 ارب، غریب خاندانوں کے لیے 150 ارب، ایمرجنسی فنڈ کے لیے 100 ارب، کامیاب نوجوان پروگرام کے لیے 2 ارب روپے، زراعت ریلیف میں 10 ارب مختص کیے گئے ہیں۔
50 ہزار خریداری پر شناختی کارڈ جمع کرانے کی ضابطے میں تبدیلی کی گئی ہے اب ایک لاکھ کی خریداری پر شناختی کارڈ دینا ہوگا۔

