پاکستان پاکستان24

سٹیل ملز معاملے میں حکومت کی منصوبہ بندی نہیں: چیف جسٹس

جولائی 16, 2020

سٹیل ملز معاملے میں حکومت کی منصوبہ بندی نہیں: چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے پاکستان سٹیل ملز کے پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے حکومتی منصوبے پر سوالات اٹھا دیئے. چیف جسٹس نے سٹیل ملز کے وکیل سے کہا کہ آپ کے مطابق متعلقہ قانون اس معاملے میں آڑے آئے گا، یہ آڑے نہیں بلکہ پورا آئے گا۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین سے متعلق کیس کی سماعت کی.

عدالت نے اسٹیل ملز اور وفاقی حکومت کے وکلاء سے مکالمے میں کہا آپ جو کرنے جا رہے ہیں اس سے تباہی پھیلے گی، آپ اس معاملے کو انتہائی برے طریقے سے دیکھ رہے ہیں، آپ اپنے کیے فیصلوں پر کھڑے کیوں نہیں ہو پا رہے، عدالت آپ کو سہارا نہیں دے سکتی.

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ آپ کو اندازہ ہی نہیں کیا کر رہے ہیں، پاکستان سٹیل ملز انتظامیہ کی اتنی اہلیت ہی نہیں ہے، پاکستان اسٹیل مل سے متعلق جو منصوبہ بنایا گیا اس سے پانچ ہزار مقدمات عدالتوں میں آجائیں گے، آپ کو دوبارہ انہی لوگوں کو ملازمت پر رکھنا پڑے گا، اسٹیل ملز انتظامیہ زیادہ ہوشیاری دکھائے گی تو یہ انہی کے گلے پڑے گی.

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ متعلقہ قانون اس معاملے میں آڑے آئے گا، یہ آڑے نہیں بلکہ پورا آئے گا، پاکستان اسٹیل ملز معاملے میں کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے.

جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ آپ کا منصوبہ یہ ہے کہ 95 فیصد ملازمین کو نکالا جائے گا اور کنٹریکٹ پر نئے ملازمین بھرتی ہوں گے،اس وقت اسٹیل ملز ملازمین کے ہائیکورٹس میں 320 اور سپریم کورٹ میں 29 مقدمات زیر سماعت ہیں. پاکستان اسٹیل ملز کے وکیل نے کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز کی پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے 40 ارب روپے خرچ آئے گا.

عدالت نے فریق مقدمہ کے وکیل کامران مرتضیٰ کی علالت کے باعث سماعت چار ہفتوں کے لیے ملتوی کرتے ہوئے پاکستان اسٹیل ملز سے نئی رپورٹ طلب کرلی.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے