متفرق خبریں

آغا افتخار کے 19 بنک اکاؤنٹس، کروڑوں کی ٹرانزیکشنز

جولائی 23, 2020 4 min

آغا افتخار کے 19 بنک اکاؤنٹس، کروڑوں کی ٹرانزیکشنز

Reading Time: 4 minutes

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو قتل کی دھمکیاں دینے والے ملزم آغا افتخار الدین مرزا نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت ازخود نوٹس کیس میں صحت جرم سے انکار کیا ہے۔

خیال رہے ملزم آغا افتخار الدین مرزا دو مرتبہ سپریم کورٹ میں غیر مشروط معافی نامے جمع کرا چکے ہیں۔ سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان غیر مشروط معافی ناموں پر یہ آبزرویشن بھی دے چکے ہیں کہ غیر مشروط معافی نامہ جرم کو تسلیم کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔

اسی مقدمے میں ایف آئی اے کی طرف سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزم کے 486 نمبرز کی کنٹیکٹ لسٹ میں ریٹائرڈ آرمی افسران اور سویلین شامل ہیں، سب سے زیادہ رابطے میں رہنے والے موبائل نمبرز کی تعداد 26 ہے، تاہم ان کا توہین عدالت کے مقدمے سے تاحال تعلق نہیں جڑ سکا۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے عدلیہ مخالف توہین عدالت کیس کی سماعت کی. توہین عدالت کے الزام کا سامنا کرنے والے ملزم آغا افتخار الدین مرزا نے صحت جرم سے انکار کردیا ہے جبکہ عدالت نے سپریم کورٹ میں زیر سماعت توہین عدالت کی کارروائی روکنے کی استدعا مسترد کردی ہے.

سماعت کے دوران ملزم نے کہا کہ وہ اپنا دفاع کریں گے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ معافی ناموں کے باوجود صحت جرم سے انکاری ہیں تو آپ کی مرضی ہے۔

ملزم کے وکیل نے کہا کہ ایک ہی ویڈیو کی بنیاد پر دونوں مقدمات بنے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ویڈیو میں چار قوانین پامال کئے تو ہر ادارہ حرکت میں آئے گا، ہر ادارہ مروجہ طریقے سے اپنے قانون کا اطلاق کرے گا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سائبر کرائم اور دہشتگردی کے قوانین کا توہین عدالت سے تعلق نہیں، ویڈیو میں جسٹس فائز عیسی کو دھمکی دی گئی جو فوجداری جرم ہے، ہر جرم کے ٹرائل کا طریقہ، شواہد اور سزا الگ ہوتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ٹرائل کورٹ اپنے شواہد پر فیصلہ کرے گی، ریکارڈ کے مطابق آغا افتخار کے اکائونٹس میں کروڑوں روپے آ اور جا رہے ہیں، آغا افتخار کو فنڈنگ کے ذرائع کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔

عدالت نے ایف آئی اے سے پیشرفت رپورٹ طلب کر لی۔

عدالت نے قرار دیا مرزا افتخار الدین اپنی اپنے وکیل کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے، آغا افتخار الدین کو توہین عدالت کا چارج پڑھ کر سنایا گیا، اٹارنی جنرل نے یقین دلایا ہے کہ اس سلسلے میں تمام ثبوت اور گواہ پیش کریں گے۔ ملزم کے وکیل کو چارج اور اس کے تمام ثبوت کی کاپیاں فراہم کی جائیں۔

ملزم نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے تک عدالت کاروائی روک دے تاہم عدالت نے استدعا مسترد کر دی۔

دوسری جانب ایف آئی اے نے پیش رفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شریک ملزم اکبر علی کو انسداد دہشت گردی عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا، افتخار الدین مرزا کی ضمانت مسترد کر دی گئی تھی۔

ایف آئی اے رپورٹ کے مطابق افتخار الدین مرزا کے موبائل نمبرز کی تفصیلات سی ڈی آرز کے ساتھ حاصل کر لی گئی ہیں، موبائل ریکارڈ کے مطابق ملزم نے بیرون ممالک رابطے کیے۔

ایف آئی اے رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزم کے 486 نمبرز کی کنٹیکٹ لسٹ میں ریٹائرڈ آرمی افسران اور سویلین شامل ہیں، سب سے زیادہ رابطے میں رہنے والے 26 نمبرز کی تفصیلات کے مطابق انکا ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں۔

رپورٹ کے مطابق عبدالوحید ڈوگر سے بھی تفتیش کی گئی۔ عبدالوحید ڈوگر نے بتایا کہ کہ وہ صحافی ہے۔ عبدالوحید ڈوگر کے مطابق وہ وزارت داخلہ، وزرات خزانہ اور قانون نافز کرنے والے اداروں سمیت مختلف امور پر رپورٹنگ کرتا ہے۔ عبدالوحید ڈوگر نے جسٹس قاضی فائز عیسی ریفرنس سے متعلق شہزاد اکبر سے ملاقات کی تصدیق کی۔

ایف آئی اے رپورٹ میں عبدالوحید ڈوگر نے تسلیم کیا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ میں شکایت درج کرنے کے بعد ایک مرتبہ شہزاد اکبر سے ملاقات کی۔ عبدالوحید ڈوگر نے افتخار الدین مرزا سے کسی قسم کی تعلق کی تردید کی.

رپورٹ کے مطابق شہزاد اکبر کا بھی بیان ریکارڈ کیا گیا انھوں نے افتخار مزار سے لا تعلقی کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افتخار الدین مرزا کی 689 اپلوڈڈ ویڈیوز میں سے 175 کی تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں۔ عدالتی حکم پر افتخار الدین مرزا کے 19 بنک اکاونٹس کی تحقیقات جاری ہیں۔ افتخار الدین مرزا کے ایک بنک اکاونٹ میں ہاوسنگ سوسائٹی کی ٹرانزکشن ہوتی رہی, افتخار الدین مرزا کے بیٹے نے تسلیم کیا کہ 31 کنال کی سوسائٹی میں باقی زمین بیچ کر ان کے والد کے پاس چند مرلے زمین رہ گئی ہے۔ اقرا پبلک سکول اینڈ کالج کے اکاونٹ سے 2010 سے 2018 تک 6 کروڑ 4 لاکھ 37 ہزار 568 روپے رقم منتقل کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق اقرا ویلفیئر آرگنائزیشن کے اکاونٹ سے 15 لاکھ سے 71 ہزار 562 روپے کی رقم منتقل ہوئی۔ الحسینی ٹرسٹ اکاونٹ سے 43 لاکھ 50 ہزار 839 روپے منتقل ہوئے، ملزم کے اکاونٹس میں بیرون ممالک سے بھی فنڈنگ ہوتی رہی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزم کے پاس سوزوکئ مہران اور ویگن آر دو گاڑیاں ہیں۔ ملزم کے ٹیکس ریکارڈ کیلئے چیئرمین ایف بی آر کو درخواست کی ہے۔

جہانزیب عباسی اسلام آباد میں مقیم صحافی ہیں جو نجی ٹی وی سے منسلک اور سپریم کورٹ سے رپورٹنگ کرتے ہیں۔
Array

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے