پاکستان24 متفرق خبریں

پاکستان میں یوٹیوب پر پابندی ممکن ہے؟

جولائی 24, 2020 2 min

پاکستان میں یوٹیوب پر پابندی ممکن ہے؟

Reading Time: 2 minutes

ویڈیوز کی عالمی ویب سائٹ یوٹیوب پر تنقیدی مواد کے بارے میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی امین کے ریمارکس اور عدالتی احکامات کے ذریعے اس کی ملک میں بندش کا عندیہ ظاہر کیے جانے کے بعد سول سوسائٹی کے علاوہ حکومتی شخصیات کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔

یوٹیوب پر پابندی کے مخالفین اور عدالتی فیصلوں کے ذریعے تنقید کو بند کرانے کے ناقدین کہتے ہیں کہ دنیا گوبل ویلج بن چکی ہے اور اکسیویں صدی میں ابلاغ کے ذرائع کو بند کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ جگ ہنسائی کا سبب بنتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدروس نے کہا تھا کہ ‘یوٹیوب جیسے پلیٹ فارم کو بند کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس طرح کرنے سے ڈیجیٹل پاکستان کے ویژن کا حصول ممکن نہ ہو پائے گا۔’

انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا کہ جب تین سال تک یوٹیوب پاکستان میں بند رہا تو ہمارے تخلیق کاروں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے اور آگے بڑھنے کا موقع نہ ملا۔ اب ہزاروں افراد کو اس ذریعے سے روزگار مل رہا ہے۔

ان سے قبل وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا تھا کہ عدالتوں اور پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کو اخلاقی پولیسنگ اور بند کرنے کی اپروچ سے باز رہنا چاہیے۔ ‘

’یہ پابندیاں  ٹیکنالوجی کی ترقی میں ہمیشہ کے لیے رکاوٹ بن جائیں گی۔ معاشی معاملات میں ججز کی مداخلت کی وجہ سے ہم ابھی اس خطرے سے باہر نہیں نکلے۔‘

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا، یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس لے لیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں آخر اس کا اختتام تو ہونا ہے۔‘

ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان دنیا سے بہت پیچھے ہے اور ایسے کسی بھی اقدام سے مزید نقصان ہوگا جو ملک کی ڈوبتی معیشت سہہ نہیں سکے گی۔

سماجی ماہرین کے خیال میں بات یوٹیوب تک نہیں رکے گی اگر عدالتوں اور ججز کو یوٹیوب کے مواد اور تبصروں یا تنقید سے مسئلہ ہو سکتا ہے تو پھر سوشل میڈیا کی دیگر ایپس کی بھی باری آئے گی۔

Array

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے