کوئٹہ میں لاپتہ اے این پی رہنما اسد اچکزئی کی لاش مل گئی
کوئٹہ میں پانچ ماہ قبل لاپتا ہونے والے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات اسد خان اچکزئی کی نعش ملی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق اسد خان اچکزئی کی نعش کوئٹہ سے گرفتار ہونے والے ملزم کی نشاندہی پر نواحی علاقے نوحصار سے برآمد ہوئی ہے۔
ایس ایچ او تھانہ ایئرپورٹ کوئٹہ نے میڈیا کو بتایا کہ اسد خان اچکزئی پانچ ماہ قبل کوئٹہ کے علاقے ایئرپورٹ روڈ سے لاپتا ہوئے تھے۔
اسد خان اچکزئی اے این پی کے صوبائی صدر اور رکن صوبائی اسمبلی اصغر خان اچکزئی کے چچا زاد بھائی بھی ہیں۔
پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ اسد خان اچکزئی لاپتا ہوئے نہ ان کو اغوا کیا گیا۔
مقتول کے اہل خانہ اور اے این پی نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ انہیں اغوا کیا گیا اور انہوں نے اس حوالے سے ایک مقدمہ بھی درج کرایا تھا۔
ایس ایچ او کے مطابق مخبر کی اطلاع پر گرفتار کیے گئے ملزم نے بتایا کہ ’انہوں نے اسد خان اچکزئی کو گاڑی چھیننے میں مزاحمت پر قتل کر کے ان کی نعش کوئٹہ سے 25 کلومیٹر دور نوحصار کے علاقے کے ایک کنوئیں میں پھینک دی تھی۔‘
پولیس نے گرفتار ملزم کی نشاندہی کے بعد اسد خان اچکزئی کی نعش برآمد کر لی ہے۔
یاد رہے کہ اسد خان اچکزئی گذشتہ برس 25 ستمبر کو اغوا ہوئے تھے۔
ان کے بھائی سپریم کورٹ کے وکیل امجد خان اچکزئی ایڈووکیٹ کے مطابق ’اسد اچکزئی جمعہ 25 ستمبر کو چمن سے اپنی گاڑی میں اکیلے کوئٹہ کے لیے نکلے تھے۔ ان کا گھر والوں سے آخری رابطہ جمعے کی شام تقریباً ساڑھے سات بجے ہوا تھا۔‘
رابطہ ٹوٹنے سے قبل ’اسد اچکزئی نے بتایا تھا کہ وہ کوئٹہ میں کچلاک کے قریب ہیں مگر اس کے بعد سے ان کا کوئی پتا نہیں چل رہا تھا۔‘

