پاکستان

جسٹس قاضی فائز دلائل دینے دس ججوں کے سامنے پیش

مارچ 1, 2021
سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ فوٹو: پاکستان ٹوئنٹی فور

جسٹس قاضی فائز دلائل دینے دس ججوں کے سامنے پیش

پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صدارتی ریفرنس پر عدالتی فیصلے کے بعد دائر کی گئی نظرثانی درخواست میں دلائل دینے خود دس رکنی لارجر بینچ کے سامنے پیش ہو گئے۔

سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استدعا کی عدالتی کارروائی براہ راست ٹی وی چینلز پر نشر کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ”میرے اور میرے اہل خانہ کی تضحیک کی گئی۔“

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے ”ہمارے سامنے ایسا کوئی مواد موجود نہیں ہے، اگر براہ راست کوریج کی اجازت دی تو کل ہر سائل عدالتی کارروائی براہ راست نشر کرنے کی درخواست دائر کر دے گا۔ پہلے اس معاملے پر دلائل سنیں گے پھر اٹارنی جنرل کو نوٹس کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔“

 

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دلائل میں کہا کہ ”ہم دو سال سے مشکل میں مبتلا ہیں،کہیں ایسا نہ ہو نظرثانی کیس مکمل ہونے سے قبل پھر کوئی معزز جج ریٹائر ہو جائے۔“

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمارا عدالتی کارروائی براہ راست نشر کرنے کی درخواست کا مقصد عوامی رائے کو درست کرنا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے مکالمے میں کہا آپ کی درخواست کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی، ہمارے سامنے آپ کی اور آپ کے اہل خانہ کی تضحیک سے متعلق کوئی مواد موجود نہیں ہے، اگر آپ کی درخواست منظور ہوئی تو پھر ہر ہر سائل براہ راست نشریات کیلئے سپریم کورٹ آجائے گا۔

سپریم کورٹ نے نظرثانی درخواستوں کی عدالتی کارروائی کی براہ راست نشریات سے متعلق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے دلائل طلب کر لیے جبکہ نظرثانی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کو اٹارنی جنرل خالد جاوید سے ہدایات لینے کا حکم دیتے ہوئے سماعت منگل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کی۔

قبل ازیں پیر کو عدالت میں وکیل منیر اے ملک کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ وہ علالت کے باعث پیش ہونے سے قاصر ہیں۔

جسٹس قاضی فائز نے عدالت کو بتایا کہ وہ اپنے مقدمے کو مزید تاخیر کا شکار نہیں کرنا چاہتے اس لیے خود دلائل دیں گے تاکہ مقدمہ نمٹایا جا سکے۔

 

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے دائر صدارتی ریفرنس کو مسترد کر دیا تھا تاہم ایف بی آر کو ان کی اہلیہ سرینا عیسیٰ کے ٹیکس گوشواروں کا جائزہ لینے کی ہدایات جاری کی تھیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے