لگتا ہے پاکستان نہیں گٹر میں رہ رہے ہیں: جسٹس قاضی فائز
سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظر ثانی کیس کی سماعت ہوئی ہے۔ مستقبل کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدالتی کارروائی براہ راست نشر کرنے کے حق میں دلائل کے دوران اپنے اور اہل خانہ کی تضحیک آمیز منظم مہم کا ذکر بھی کیا،سقوط ڈھاکہ اور پاکستان میں آزادی صحافت کو درپیش مشکلات پر بھی کھل کر بات کی، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایک مرتبہ اتنے جذباتی ہوئے کہ اُن کی آواز بھر آئی۔
رپورٹ: جہانزیب عباسی
سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی لارجر بنچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صدارتی ریفرنس نظر ثانی کیس کی سماعت کی۔سماعت کے آغاز سے دس منٹ قبل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ہمراہ کمرہ عدالت میں پہنچے اور دائیں جانب وکلاء کیلئے مختص پہلی قطار میں بیٹھ گئے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے سماعت کے آغاز پر کہا کہ ایڈووکیٹ منیر اے ملک کی طرف سے درخواست دائر کی گئی ہے، منیر اے ملک کی طبیعت ناساز ہے،، انکو دل کی تکلیف ہے، ایڈووکیٹ منیر اے ملک نے پیش ہو کر دلائل دینے سے معذرت کر لی ہے،ان حالات میں ہم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو دلائل دینے کی اجازت دیتے ہیں۔
بنچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے مکالمے میں کہا جج صاحب میری آپ سے ایک درخواست ہے،وکیل سائل اور عدالت کے درمیان ایک بفر کی حیثیت رکھتا ہے، دوسرے فریق کے دلائل آپ کو ناگوار لگ سکتے ہیں،میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ تحمل کا مظاہرہ کریں گے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا اگر میں اپنے دلائل سے ہٹ جاؤں تو عدالت مجھے روک سکتی ہے، میں دلائل میں جذباتی نہیں ہونگا،میں عدالت کا زیادہ وقت نہیں لونگا،نظرثانی بنچ میں ایک نئے جج صاحب موجود ہیں اس لیے کیس کا پس منظر بیان کرنا چاہتا ہوں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہم کوشش کریں گے کہ عدالتی کارروائی میں تضحیک کا پہلو نہ جھلکے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دلائل میں کہا میری اور میرے اہل خانہ کی پہلے ہی تضحیک ہو چکی ہے، پوری دنیا کے سامنے ہمارے خلاف منظم تضحیکی مہم چلائی گئی۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا جج صاحب ہم ایک ادارے سے تعلق رکھتے ہیں، ادارے کی ساکھ اور سالمیت کیلئے تحمل ضروری ہے، آپ نے صبر کیا، صبر کا پھل اللہ دے گا،عوام کی کثیر تعداد آپ کے ساتھ ہے،میری بیٹی اور میری بہن کمرہ عدالت میں بیٹھی ہیں،، ہمیں یہ اچھا نہیں لگتا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دلائل میں کہا میرے انتہائی قریبی رشتہ دار (فرسٹ کزن) ہیں جو باقاعدگی سے نیوز چینلز دیکھتے ہیں،جب میرے خلاف صدارتی ریفرنس خارج ہونے کی خبر ٹی وی چینلز پر نشر ہوئی تو میرے قریبی رشتہ دار نے مبارک باد دی، میرے قریبی رشتہ دار نے مبارکباد کے ساتھ طنزیہ انداز میں کہا کہ فیصلہ دینے والے بھی آپ کے دوست ہی ہیں، میں نے اپنے قریبی رشتہ دار سے تعلق توڑ دیا کیونکہ میرے ادارے کے خلاف بات کی گئی۔
مستقبل کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دس رکنی بنچ کے سامنے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ نہ صرف انصاف ہونا چاہیے بلکہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے، مجھ پر جو داغ لگا گیا وہ قبر تک میرے ساتھ جائے گا،مجھ پر لگائے گئے داغ کا اثر میرے بچوں اور انکے بچوں پر بھی پڑے گا، بیرون ملک جائیدادیں میری اہلیہ کی ہیں، ہم پر منی لانڈرنگ کا الزام لگایا گیا،جب جائیدادیں خریدی گئیں اس وقت منی لانڈرنگ کا قانون وجود ہی نہیں رکھتا تھا،قانون کا اطلاق ماضی کے اقدام پر نہیں ہو سکتا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید کہا میں عام شہری کی طرح نہ پریس کانفرنس کر سکتا ہوں نہ ہی بیان جاری کر سکتا ہوں،لیکن لوگ مجھ سے تقاضا کر رہے ہیں میں جواب کیوں نہیں دے رہا، ڈوگر نامی ایک مشکوک شخص نمودار ہوا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ماضی کی طرف نہ جائیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دلائل میں مزید کہا عمران خان، عارف علوی اور وزراء ذاتی حثیت میں گفتگو کر سکتے ہیں،میں بطور جج ذاتی حثیت میں بھی گفتگو نہیں کر سکتا،عوام کو انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا جن فیصلوں کا آپ حوالہ دے رہے ہیں وہ کھلی عدالت میں سماعت کے ہیں،آپ کے مقدمے کی سماعت پہلے ہی کھلی عدالت میں ہورہی ہے۔
ایک موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ دلائل میں جذباتی ہوگئے اور اُنکی آواز بھر آئی، دلائل میں مستقبل کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ زیادہ چالاک نہ ہونے کی وجہ سے اپنا نقطہ سمجھا نہیں سکا، دو سال سے میرے خلاف حکومتی پراپیگنڈا کیا جارہا ہے،سپریم کورٹ کے جج اور اسکے اہل خانہ کے خلاف سرکاری چینل کے ذریعے پراپیگنڈا کیا گیا، مقدمہ میری دس لاکھ تنخواہ کا نہیں ملک کے مستقبل کا ہے،میں یہ جنگ اپنے ادارے کے لیے کڑ رہا ہوں،اگر میری جگہ اپ کے اہلیہ اور بچے ہوتے تو آپ لوگ کیا کرتے؟۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کل کو کسی بھی جج کو پروپیگنڈا میں گھسیٹا جا سکتا ہے،اگر فاضل ججز کو کوئی بات گراں گزری ہو تو معذرت چاہتا ہوں۔جسٹس منظور احمد ملک نے کہا ہم آپ کو سننے بیٹھے ہیں آپ دلائل جاری رکھیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آزادی صحافت پر بات کرتے ہوئے کہا آج ملک میں میڈیا کی حالت دیکھ لیں، صحافیوں کو اسلام آباد سے اغواء کرلیا جاتا ہے،صحافیوں کے اغواء پر وزیر اعظم کہتے ہیں مجھے کیا معلوم کیا ہوا،صحافیوں پر تشدد ہوا کسی نے انکوائری تک نہیں کی، لگتا ہے آج ہم پاکستان میں نہیں گٹر میں رہ رہے ہیں، اگر زمہ دار ان کے نام کھلی عدالت میں بتائے تو میرے خلاف ریفرنس آجائے گا،سانحہ مشرقی پاکستان پر بات کی جائے تو خاموش کرا دیا جاتا ہے، قائد اعظم اور میرے والد کی روح قبر میں تڑپ رہی ہوگی، ایک فوجی ڈکٹیٹر کی اقتدار کی حوس نے ملک تباہ کردیا۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے جج صاحب یہ قانون کی عدالت ہے ہم نے مقدمات کے فیصلے کرنے ہیں، آپکو کسی سے مسئلہ ہے تو اسے عدالت سے باہر رکھیں، بہتر ہوگا کہ ہم اپنی حدود سے باہر نہ نکلیں، کوئی صحافی اغواء ہوا ہے تو اس کی الگ سے پٹیشن دائر کریں۔جسٹس منظور احمد ملک نے کہا کہ قاضی صاحب جذباتی نہ ہوں، کیس پر فوکس کریں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میری ذات کو بھول جائیں ملک کے لیے جذباتی ہو رہا ہوں۔جسٹس منظور ملک نے کہا ہر بات ہر جگہ کرنا مناسب نہیں ہوتا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا مختلف ممالک میں عدالتی کارروائی کی براہ راست کوریج کی مثالیں موجود ہیں،پارلیمنٹ کی کارروائی براہ راست نشر ہوتی ہے،، آئین میں اسکی اجازت نہیں،براہ راست عدالتی کارروائی نشر ہونے سے نوجوان وکلاء کو سیکھنے کا موقع ملے گا، یہاں میڈیا کنٹرولڈ ہے، میڈیا میں دونوں فریقین کی لڑائی دکھا کر ریٹنگ حاصل کی جاتی ہے،ہر فریق میڈیا میں آکر کہتا ہے ہمارے حق میں فیصلہ دیا گیا، سچ عوام تک نہیں پہنچایا جاتا،براہ راست عدالتی کارروائی نشر کرنے سے کسی کو اعلیٰ عدلیہ پر انگلی اٹھانے کا موقع نہیں ملے گا، مجھے اپنی صفائی کیلئے ایک موقع ملنا چاہئے، لاؤڈ اسپیکر کی ٹیکنالوجی کو آزان کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، جب ایک ٹیکنالوجی موجود ہے تو اسکا استعمال کیوں نہیں کیا جا رہا،قرآن کی پہلی آیت میں اقراء کہا گیا ہے، ایک اخبار نے خبر دی سپریم کورٹ نے براہ راست نشریات سے متعلق میری درخواست رد کردی گئی ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے آپ کی یہ دلیل بہت اہم ہے کہ شفافیت ہونی چاہیے،ہمارے فیصلوں میں شفافیت کی عکاسی ہونی چاہیے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا قاضی فائز عیسیٰ اہم نہیں ہے بلکہ ادارہ اہم ہے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا اگر ہم نے آپ کو براہ راست نشریات کی اجازت دی تو پھر کل سب کو اجازت دینی پڑے گی،یہ معاملہ جوڈیشل نہیں انتظامی اور پالیسی معاملہ ہے۔
کیس کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ایک گانے کا حوالہ بھی دیا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا مجھے تحمل سے سننے کا شکریہ ادا کرتا ہوں،،اگر میں دلائل سے تجاوز کروں تو مجھے ڈانٹ دیجیے گا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہم آپ کو ڈانٹیں گے نہیں بلکہ مطلع کر دیں گے، ہمیں آپ کا احترام ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ میں کہا کیا آپ دلائل دیں گے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا میں ابھی صرف نوٹنگ لے رہا ہوں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا آپ کو کتنا وقت چاہیے،، کون حکومت کی طرف سے دلائل دے گا،کہیں ایسا نہ ہو وزیر قانون خود آکر دلائل دیں، نظرثانی کا مقدمہ اتنا طویل نہیں چلتا، ہمیں کل تک بتائیں کس کو وکیل کرنا ہے،، کتنا وقت چاہیے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے وفاقی حکومت کے وکیل سے مکالمے میں کہا دس رکنی بنچ اس کیس سننے کیلئے بیٹھا ہوا ہے،آپ کا یہ کہنا ابھی طے نہیں ہوا کون وفاق کی نمائندگی کرے گا، بڑی عجیب بات ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سماعت کے اختتام پر کہا میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں،کمرہ عدالت میں موجود کچھ صحافیوں نے مجھے پیشکش کی ہے کہ وہ براہ راست نشریات کیلئے تکنیکی سہولت فراہم کرنے کو تیار ہیں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا پیشکش اچھی ہے،اگر ہم نے فیصلہ کر لیا تو ریاست کے پاس وسائل موجود ہیں، ہم پرائیویٹ کیمروں کو اجازت نہیں دیں گے،ہمیں کمرہ عدالت میں صحافی قابل قبول ہیں،ہمیں کمرہ عدالت میں سرمایہ دارانہ مفاد قابل قبول نہیں ہے۔عدالت نے کیس کی سماعت کل دن ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی۔

