وزیراعظم عمران خان کا قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے سینیٹ الیکشن میں اپنی جماعت کے امیدوار حفیظ شیخ کی قومی اسمبلی سے ووٹ لینے میں ناکامی کے بعد اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعظم کو 342 کے ایوان میں 142 ووٹوں کی ضرورت ہوگی۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن سینیٹ کے لیے شفاف انتخابات کرانے میں ناکام رہا ہے۔
بدھ کی شب وفاقی وزرا اسد عمر، شفقت محمود، شیریں مزاری، چوہدری اور حکومتی مشیران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپوزیشن کے قول و فعل میں تضاد ہے۔
انہوں نے سینیٹ کے دن کو پاکستان کی جمہوریت کے لیے افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’الیکشن کمیشن کو اپنی ذمہ داری نبھانا چاہیے تھی۔‘
انہوں نے یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی حیدر گیلانی کی ویڈیو کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس سے علی حیدر گیلانی کی شکل، آواز اور حرکتیں قوم کے سامنے آئیں۔
وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ویڈیو سامنے آنے کے بعد فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا تو وہاں سناٹا تھا۔‘
’الیکشن کمیشن کو تجویز دی گئی تھی کہ ٹیکنالوجی استعمال کر لی جائے تاکہ کرپشن کی راہ رکے مگر کہا گیا کہ اگلی بار ایسا کیا جائے گا اب وقت کم ہے۔‘
انہوں نے طنز کیا کہ ’الیکشن کمیشن کو صرف چند سو بیلٹ پیپرز چھاپنا تھے، لاکھوں نہیں تھے، جو انتظام نہیں ہو سکتا تھا۔‘
شاہ محمود نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’اس کے قول و فعل میں تضاد ہے۔‘
شاہ محمود کے مطابق ’ضمیر کے سوداگروں کے خلاف لڑائی جاری رکھیں گے اور ان کا سیاسی طور پر مقابلہ کریں گے۔‘
قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ ’سینیٹ الیکشن کے رزلٹ سے عمران خان کے تمام خدشات درست ثابت ہو گئے ہیں۔ آج رات مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔‘
بدھ کو سینیٹ الیکشن کے نتائج سامنے آنے کے بعد راولپنڈی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شبلی فراز نے پی ڈی ایم کو سیاہ قوتوں کا ٹولہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ ضمیروں کے سوداگر ہیں۔‘

