وزیراعظم کے الزامات کے بعد الیکشن کمیشن کا اجلاس
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے خطاب میں سینیٹ انتخابات کے حوالے سے الزامات کے بعد الیکشن کمیشن آج اجلاس میں مشاورت کر رہا ہے۔
عمران خان نے الزام عائد کیا تھا کہ الیکشن کمیشن کی وجہ سے جمہوریت کو نقصان پہنچا۔
جمعرات کو سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے الیکشن کمیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ’سیکرٹ بیلٹ کروا کر الیکشن کمیشن نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے، یہ کون سی جمہوریت ہے جہاں پیسے دے کر کوئی بھی سینیٹر بن جاتا ہے۔‘
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’صاف اور شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری تھی، مجھے یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں کیوں کہا کہ خفیہ بلیٹ ہونا چاہیے، کوئی آئین اجازت دیتا ہے رشوت دینے کی؟ کوئی آئین اجازت دیتا ہے چوری کرنے کی؟
انہوں نے الیکشن کمیشن کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ ’سپریم کورٹ نے آپ کو موقع دیا اور کہا کہ الیکشن خفیہ کروا لیں لیکن بیلٹ کی شناخت کے طریقہ کار کو خفیہ رکھیں، مثلاً اگر ہم جاننا چاہیں کہ ہمارے جو ارکان بکے ہیں وہ کون ہیں تو آپ نے انہیں بھی بچالیا۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’سارے ملک کے سامنے پیسہ چل رہا ہے، پیسے کی ویڈیو بھی چل رہی ہے، اس سے پہلے 2018 کے سینیٹ انتخابات میں پیسے لینے کی ویڈیو بھی سامنے آچکی ہے۔‘
’کیا آپ کو علم نہیں کہ اس کی تحقیقات کرنا آپ کی ذمہ داری تھی ؟ ساری ایجنسیاں آپ کے ماتحت ہیں، جب ملک کی قیادت رشوت لے اور رشوت دے گی تو آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ پٹواری اور تھانیدار ٹھیک ہو جائے گا۔‘
وزیراعظم نے الیکشن کمیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’سپریم کورٹ نے جب آپ کو موقع بھی دیا تو کیا وجہ تھی کہ آپ 1500 بیلٹ پیپرز پر کوئی بار کوڈ نہ لگا سکے۔‘
وزیراعظم نے الزام لگایا کہ ’الیکشن کمیشن نے ملک کی جمہوریت کو بے توقیر کرنے کا موقع دیا، اس سے ہماری جمہوریت اوپر گئی یا نیچے گئی؟‘
’آپ نے ملک کی اخلاقیات کو نقصان پہنچایا ہے، آپ کو اندازہ ہی نہیں کہ سینیٹ الیکشن میں کتنا پیسہ چلا ہے، جو شخص کروڑوں روپے خرچ کر کے سینیٹر بنے گا وہ ملک کی کیا خدمت کرے گا؟ وہ یہ لگایا گیا پیسہ کہاں سے وصول کرے گا؟‘

