پاکستان پاکستان24

کنٹرولڈ میڈیا کے ذریعے میرے خلاف پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

مارچ 8, 2021
سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ فوٹو: پاکستان ٹوئنٹی فور

کنٹرولڈ میڈیا کے ذریعے میرے خلاف پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظر ثانی کیس کے دوران عدالتی کارروائی براہ راست نشر کرنے سے متعلق نقطے پردلائل کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے وفاقی حکومت کے وکیل سے پوچھا کہ براہ راست کوریج کی اجازت دینے یا نہ دینے کا خالتصتاََ اختیار سپریم کورٹ کو حاصل ہے،وفاقی حکومت سپریم کورٹ کو یہ نہیں کہہ سکتی ہم نے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔جسٹس منیب اختر نے کہا وفاقی حکومت کو براہ راست کوریج کا اختیار ہے ناں ہی کسی سائل کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ بتائے سپریم کورٹ نے کیا کرنا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا دو سال سے میری زندگی مائیکروسکوپ کے نیچے ہے،،اب چاہتا ہوں کہ سب کھل کر سامنے آئے،میں پبلک میں شرمندہ ہونے کو تیار ہوں لیکن حکومت خوفزدہ ہے، حکومت میڈیا کو دبا رہی ہے، پہلے انھوں نے میڈیا کو تباہ کردیا اب یو ٹیوب کے پیچھے پڑ جائیں گے،،اگر کوریج براہ ہو تو سب دیکھیں گے کہ کیا حق ہے اور کیا سچ ہے،یہ(حکومت) حق اور سچ سے ڈرتے ہیں، یہ خوف زدہ ہیں،یہ گلا پھاڑ کر میرے خلاف پراپیگنڈا کرتے ہیں، شہزاد اکبر نے مئی سن دو ہزار انیس میں پریس کانفرنس کرکے میری اور میرے اہل خانہ کی کردار کشی کی، دو سال گزر گئے اور اب شہزاد اکبر اتنے خوفزدہ ہیں کہ عدالت نہیں آتے۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

سپریم کور ٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صدارتی ریفرنس نظر ثانی کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ بنچ نے کی۔کیس کی سماعت کے دوران عدالتی کارروائی کی براہ راست کوریج سے متعلق جسٹس قاضی فائز کی درخواست پر وفاقی حکومت نے دو ٹوک الفاظ میں مخالفت کردی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے دلائل میں کہا وفاقی حکومت کو براہ راست کوریج سے متعلق درخواست پر اعتراض ہے،،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست ناقابل سماعت ہے،نظرثانی کے مقدمے میں آئینی درخواست کا جائزہ نہیں لیا جاسکتا،،براہ راست کوریج کی درخواست مفاد عامہ کے تحت دائر کی گئی ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جسٹس یحییٰ آفریدی کے ایک فوجداری کیس فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا نظرثانی کیس میں نیا نقطہ نہیں اٹھایا جاسکتا،یہ طے شدہ قانون ہے کہ اگر مرکزی مقدمے میں سوال نہ اٹھایا گیا ہو تو نظر ثانی میں وہ سوال نہیں اٹھایا جاسکتا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دلائل میں مزید کہا جمہوری نظام میں کھلی عدالت کی کارروائی پر کوئی ممانعت نہیں ہے،شفاف ٹرائل اور انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے،عوامی اعتماد کیلئے کھلی عدالت میں ٹرائل ہونا چاہیے،،تاہم آئین میں کھلی عدالت میں کارروائی کا زکر نہیں قوانین میں اس کا ذکر ملتا ہے،اگر آئین اور قانون میں براہ راست کوریج کے حق کا زکر موجود ہے تو پھر براہ راست کوریج ہونی چاہیے لیکن اگر براہ راست کوریج کا آئین و قانون میں ذکر نہیں تو پھر سپریم کورٹ طے کرے براہ راست کوریج کا حق دینا ہے یا نہیں۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے دلائل میں مزید کہا براہ راست کوریج کی درخواست میں شفاف ٹرائل کا سوال اٹھایا گیا،،سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں شفاف ٹرائل مکمل دفاع کا حق دینا ہے،جہاں تک آزادی اظہار رائے کا تعلق ہے تو کسی صحافی یا صحافتی تنظیم کی طرف سے درخواست دائر نہیں کی گئی۔

وفاقی حکومت کے وکیل کو آزادی اظہار رائے کی دلیل کیلئے نسیم حسن شاہ کے فیصلے کا حوالہ بھی دینا پڑا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے بطور جج ہائیکورٹ ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا میڈیا بھی مادر پدر آزاد نہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے آج سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے،ہم ویڈیو لنک کی ٹیکنالوجی استعمال کرکے بلوچستان اور کے پی کے وکلاء کو اسلام آباد میں بیٹھ کر سنتے ہیں، براہ راست کوریج دینے یا نہ دینے کا خالتصتاََ اختیار سپریم کورٹ کو حاصل ہے،وفاقی حکومت سپریم کورٹ یہ نہیں کہہ سکتی ہم نے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا،آپ کا کام صرف معاونت کرنا ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا وفاقی حکومت کا بھی یہی موقف ہے کہ یہ جوڈیشل اختیار نہیں بلکہ سپریم کورٹ کا انتظامی اختیار ہے۔

جسٹس منیب اختر نے کہا اگر وفاقی حکومت کو براہ راست کوریج کا اختیار نہیں تو کسی سائل کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ بتائے سپریم کورٹ نے کیا کرنا ہے،فرض کریں اگر عدالت میں گنجائش کم ہونے کی صورت میں کیا سپریم کورٹ دیگر کمرہ عدالتوں میں براہ راست کوریج کا بندوبست کر سکتی ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا سپریم کورٹ کو یہ اختیار حاصل ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے اس وقت پوری دنیا ایک عالمی گاؤں کی حیثیت اختیار کر چکی ہے،گوادر میں بیٹھے شخص کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ کمرہ عدالت کی کوریج سن اور دیکھ سکے، پاکستان کے دور دراز علاقے میں رہنا والا پاکستانی مالی مشکلات کے سبب سپریم کورٹ نہیں آ سکتا، ہم نے جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کے بجائے شتر مرغ کی طرح اپنا سر زمین میں دبایا ہوا ہے کہ جو چل رہا ہے ایسے ہی چلے گا،نہ آپ کے پاس ایسا راز ہے نہ ہمارے پاس کوئی ایسا راز ہے جسکی ممانعت ہو، اگر کسی جج کی طرف سے بدتمیزی کی گئی ہو تو وہ بھی پبلک ہونی چاہیے،اگر کسی وکیل یا سرکاری وکیل کی طرف سے بد تمیزی ہو تو وہ بھی پبلک ہونی چاہیے، عوام کو عدالتی فیصلوں پر رائے دینے کا حق ہونا چاہیے، ہم کیوں چھپ رہے ہیں کیا وجوہات ہیں، سب کچھ پبلک ہونا چاہیے۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کئی بار سماعت ان کیمرہ بھی ہوئی ہے،برازیل نے تو کہہ دیا ججز کے چیمبرز میں کی گئی گفتگو بھی نشر ہوگی۔جسٹس منیب اختر نے کہا عدالت میں اس وقت دس جج صاحبان موجود ہیں،چھ دیگر جج صاحبان کمرہ عدالت میں موجود نہیں ہیں،،باقی جج صاحبان کی رائے جانے بغیر کیسے براہ راست نشریات کا حکم دیدیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا ہر شہری کا حق اگر عدالتی کارروائی دیکھنا ہے تو اسکے دروازے تک انصاف پہنچنا بھی اُنکا حق ہے،انتظامی مشکلات ہر فورم پر ہوتی ہیں،انصاف ہوتا ہوا نظر آنے کا مطلب غیر جانبدارانہ انصاف ہے۔

جب ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے براہ راست کوریج کی مخالفت میں دلائل مکمل کر لیے تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ روسٹرم پر آئیں اور کہا میں بھی عدالت کے سامنے اپنی گذارشات رکھنا چاہتی ہوں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہم آپ کو مکمل موقع فراہم کریں گے،،بنچ میں موجود کچھ جج صاحبان میسر نہیں ہیں اس لیے ہم مقدمے کی آئندہ سماعت اگلے ہفتے میں کریں گے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سماعت کے اختتام پر روسٹرم پر آئے اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا حکومت میڈیا کو دبا رہی ہے، پہلے انھوں نے میڈیا کو تباہ کردیا اب یو ٹیوب کے پیچھے پڑ جائیں گے، مجھے کھلے عام بد نام کیا جا رہا ہے،کنٹرول میڈیا کے زریعے میرے خلاف پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے،اگر کوریج براہ ہو تو سب دیکھیں گے کہ کیا حق ہے اور کیا سچ ہے،یہ(حکومت) حق اور سچ سے ڈرتے ہیں، یہ خوف زدہ ہیں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا میں آپ سے پرائیویٹ نہیں مل سکتا، پرائیویٹ مل کر میں آپ کو بتاتا آپ کو بھرپور کوریج مل رہی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہادو سال سے میری زندگی مائیکروسکوپ کے نیچے ہے،اب چاہتا ہوں کہ سب کھل کر سامنے آئے،میں پبلک میں شرمندہ ہونے کو تیار ہوں لیکن حکومت خوفزدہ ہے،یہ پراپیگنڈسٹ اور کنٹرولڈ میڈیا چاہتے ہیں جو ان کی طرف کی بات کرے،یہ گلا پھاڑ کر میرے خلاف پراپیگنڈا کرتے ہیں، شہزاد اکبر نے مئی سن دو ہزار انیس میں پریس کانفرنس کرکے میری اور میرے اہل خانہ کی کردار کشی کی،دو سال گزر گئے اور اب شہزاد اکبر اتنے خوفزدہ ہیں کہ عدالت نہیں آتے۔عدالت نے کیس کی سماعت سترہ مارچ تک ملتوی کر دی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے