پشاور پولیس کی حراست میں نوعمر لڑکے کی ہلاکت، خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش
پشاور پولیس کی تحویل میں طالب علم کی پر اسرار ہلاکت کا واقعے کا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے نوٹس لیتے ہوئےآئی جی کو غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مبینہ طور پر موٹر سائیکل کے کاغذات نہ ہونے کی وجہ سے غربی پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں نے ورسک روڈ پشاور کے رہائشی ساتویں جماعت کے طالب علم شاہ زیب کو گرفتار کیا تھا۔
بعد میں شاہ زیب غربی تھانے میں پر اسرار طور پر ہلاک ہوگیا تھا۔ پولیس نے پریس ریلیز میں واقعے کو حوالات میں پھندا ڈال کر خودکشی قرار دیا۔
وزیراعلیٰ کے نوٹس لینے کے بعد آئی جی فوری طور پر متعلقہ تھانے پہنچے اور محرر کی گرفتاری عمل میں لائی گئ۔
وزیراعلیٰ نے بیان میں کہا ہے کہ پولیس تشدد سے طالب علم کی ہلاکت واقع ہونے کی صورت میں ملوث اہلکاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا، ملوث اہلکاروں کو عبرتناک سزا دی جائے گی، اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
درج کیے گئے مقدمے کے مطابق متوفی شاہ زیب کے والد خیال اکبر نے کہا ہے کہ ان کو تھانے سے فون پر بتایا گیا تھا کہ موٹر سائیکل کے کاغذات لے آئیں اور بیٹے کو لے جائیں مگر وہ 40 منٹ بعد پہنچے تو ان کو انتظار کراتے ہوئے بہانے کیے گئے اور بعد ازاں ایس ایچ او نے حوالات میں خودکشی کا بتایا۔
مقدمے میں پولیس پر تشدد سے بچے کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ حوالات کے فرش پر بچے کی نعش کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔

