پاکستان پاکستان24

نیب اور ہائیکورٹ کے پیچھے کیوں چھپتے ہو، آؤ مقابلہ کرو: مریم نواز

مارچ 15, 2021

نیب اور ہائیکورٹ کے پیچھے کیوں چھپتے ہو، آؤ مقابلہ کرو: مریم نواز

پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کو لاہور ہائیکورٹ نے ضمانت منسوخی کے لیے نیب کی جانب سے دائر درخواست پر نوٹس جاری کیا ہے۔

پیر کو لاہور ہائیکورٹ میں مریم نواز کی چوہدری شوگر مل کیس میں ضمانت منسوخ کرانے کی درخواست کی سماعت کے دوران نیب کی جانب سے چوہدری خلیق الزماں اور فیصل بخاری عدالت میں پیش ہوئے۔

جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے نیب کی درخواست پر سماعت کی۔

نیب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مریم نواز اپنی ضمانت کا غلط استعمال کر رہی ہیں۔ضمانت کے بعد تفتیش کے لیے طلب کیا گیا تو  پیش نہیں ہوئیں۔

نیب کے وکیل نے کہا کہ مریم نواز نے پیش ہونے کے بجائے نیب آفس پر پتھراؤ کرایا نیب کو پتھر مارے۔ پتھراؤ کے معاملے پر مقدمہ بھی درج کرایا ۔

عدالت کے پوچھنے پر کہ آپ ضمانت کن بنیادوں پر خارج کرانا چاہتے ہیں؟ نیب کے وکیل نے بتایا کہ مریم نواز اپنی ضمانت کا غلط استعمال کر رہی ہیں یہ ہماری ایک گراؤنڈ ہے ۔

وکیل فیصل بخاری کے بعد نیب کے ڈپٹی پراسکیوٹر چوہدری خلیق الزماں نے دلائل میں کہا کہ  مریم نواز کے خلاف انکوائری انوسٹی گیشن میں بدل چکی ہے، اب مریم نواز کا پیش ہونا ضروری ہے لیکن وہ پیش نہیں ہوتیں ۔ مریم نواز کے حامیوں نے نیب پر حملہ کیا گیٹ توڑا ور بیریئر بھی توڑے ۔

بینچ کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ واقعے ایک سال بعد آپ ضمانت منسوخی کے لیے آ رہے ہیں پہلے نیب کو ہوش نہیں آیا؟

وکیل نے کہا کہ مریم نواز کے سیاسی معاملات کو نیب سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے اس لیے پہلے مریم نواز کی ضمانت منسوخی دائر نہیں کی گئی ۔

لاہور ہائیکورٹ نے مریم نواز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے لاہور مریم نواز سے نیب کی درخواست پر سات اپریل تک جواب طلب کر لیا۔

دوسری جانب مریم نواز نے کہا ہے کہ ’نیب کا کام کرپشن پکڑنا ہے جس میں وہ بری طرح ناکام ہوا، نیب عمران خان کے مخالفین کو پکڑنے کا ادارہ بن چکا ہے۔‘

پیر کو لاہور ہائیکورٹ میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ کورونا تب آتا ہے جب حکومت مشکل میں ہو، میڈیا میں ہمت ہے تو نواز شریف کی تقاریر دکھائے۔

انہوں نے مخالفین سے کہا کہ نیب اور ہائیکورٹ کے پیچھے کیوں چھپتے ہو، آؤ مقابلہ کرو۔

’حالانکہ یہ انتقام کا ادارہ ہے پھر بھی میں نے اس سے تعاون کیا، نیب کے باہر مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا، پتھر اور گولیاں کھانے کے بعد بھی نیب کے دفتر کے باہر ایک گھنٹہ کھڑی رہی لیکن ڈرپوکوں نے دروازہ نہیں کھولا۔‘

مریم نواز کے مطابق ’نیب نے ہائی کورٹ میں کہا ہے کہ میں بیانات دے رہی ہوں اس لیے میری ضمانت منسوخ کی جائے، بیانات جانچنے کا اختیار نیب کو کیسے مل گیا؟ نیب کا یہ بیان نہایت مضحکہ خیز ہے۔‘

ن لیگی رہنما نے کہا کہ ’نیب کو یہی تکلیف ہے کہ میں آٹا چور اور چینی چور کو چور کیوں کہتی ہوں۔‘

مسلم لیگ ن کی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ’ اگر اس طرح کی انتقامی کارروائیاں جاری رہیں تو مسلم لیگ ن خاموشی نہیں رہے گی۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے