سارے ججوں کی فائلیں اُن کے پاس تیار ہیں: جسٹس قاضی فائز
پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے اپنی نظر ثانی درخواست کے کیس کی براہ راست کوریج کے لیے دائر پٹیشن پر دلائل دیتے ہوئے بینچ کے دس ساتھی ججوں سے کہا ہے کہ اُن کی فائلیں بھی بن رہی ہیں۔
بدھ کو قاضی فائز عیسیٰ نے دلائل میں کہا میرے خلاف صحافی وحید ڈوگرکی شناخت کیا ہے؟کوئی نہیں بتاتا،پاکستان میں اس وقت ڈوگرجیسے ٹاؤٹ بھرے پڑے ہیں، نیب کا ملازم شہزاد اکبرعدلیہ کولیکچردیتا ہے،ہم احمقوں کی جنت میں نہیں رہ رہے، چاہتا ہوں لوگ میری بات براہ راست سنیں،آغا افتخارنے قتل کی دھمکیاں دیں پانچ دن بعد کیس ایف آئی اے کوبھیجا گیا تحقیقات میں اس کا تعلق شہزاد اکبر سے نکلا۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل نےکہا سپریم کورٹ کی کاروائی عوام تک پہنچانےکیلئےمیڈیا نمائندگان کمرہ عدالت میں موجود ہوتےہیں براہ راست کاروائی دکھانےکا کوئی جوازنہیں، درخواست مسترد کی جائے۔
جسٹس قاضی فائزعیسی کی اہلیہ سرینا عیسی روسٹرم پرآگئیں،کہا میڈیاپروپیگنڈا کیا جارہا ہےسپریم کورٹ اورایف بی آر پیشی کےوقت میرے ویڈیو کلپ بنائےجاتےہیں،وزیراعظم ،وزیرقانون اورشہزاد اکبرنےمیرے خاوند کوبرخاست کرنےکی کوشش کی،حکومتی مشینری نےغیرقانونی طور پرریکارڈ حاصل کیااپنی رقم سےخریدی جائیداد میرے شوہرکی بنادی گئی، فروغ نسیم نے عہدے کا ناجائزاستعمال کیا م۔
جسٹس عمرعطا بندیال نےریمارکس دیےاس وقت سماعت کی براہ راست نشریات کی درخواست پرسماعت ہورہی ہے۔
سرینا عیسیٰ نےکہا کیس میں فریق تھی تب ہی نوٹس جاری کیا گیا،جون 2020 تک کےمیرے ٹیکس ریکارڈ تک رسائی حاصل کی گئی۔ شہزاد اکبر نےنوکری شروع کی توتنخواہ پینتیس ہزارتھی، شہزاد اکبرسے22 سال پہلےسےنوکری کررہی ہوں،شہزاد اکبرآج امیرآدمی ہیں،جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نےکہامیڈیا آزادنہیں جوکچھ میں یہاں بولتا ہوں اس کےبرعکس چلایا جاتا ہے۔
جسٹس عمرعطابندیال نےریمارکس دیےقاضی صاحب ایک بندے سےسن کراگلا بندا بتاتےہوئےآدھی بات بھول جاتا ہےامریکہ میں عدالتی کاروائی براہ راست نہیں بلکہ ریکارڈ رکھا جاتا ہے،جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نےکہاہم امریکہ کےغلام نہیں ہمارا رہنما قائد اعظم ہے۔
عمرعطابندیال نےکہا آپکےتحریری دلائل کاجائزہ لیا اوپن کورٹ میں سماعت کےتھے۔
جسٹس قاضی فائزنےکہاآغا افتخارالدین مرزا نےمجھےقتل کی دھمکی دی، میری اہلیہ مقدمہ درج کرانےگئی پانچ دن بعد پولیس نےمقدمہ ایف آئی اے کو بھجوا دیا، مرزا افتخار الدین کوسپریم کورٹ میں پروٹوکول دیاگیا،میں قتل ہوا توشہید کہلاؤں گاجنت میں جاؤں گا، افتخارالدین مرزا کا تعلق شہزاد اکبرسےنکلا لیکن تفتیش روک دی گئی، یوٹیوب پرپراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، میرےنام سے تین جعلی ٹوئٹراکاونٹس بنےہوئےہیں ،تین بارخط لکھ چکامیرا کوئی ٹوئٹراکاؤنٹ نہیں، صدرمملکت بھول جاتے ہیں کہ وہ پی ٹی ائی کے ورکر ہیں۔
ایوان صدر میں بیٹھ کر تین انٹرویوز دیے۔کہا ریفرنس پرخاموش رہنےاورمیڈیا ٹرائل کا بھی اپشن تھا۔صدرنےکہا تیسرا اپشن جوڈیشنل کونسل کا تھا جواستعمال کیا۔ جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیے صدرکبھی میڈیا ٹرائل نہیں کرواتے یہ خود ہو جاتا ہے۔بہترہوگا ان باتوں پرنہ جائیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےکہا سچ بولتا رہوں گا چاہیےکسی کو برا ہی کیوں نہ لگے۔
جسٹس عمر عطابندیال نےکہا بات دوسری طرف جاچکی ہے۔ ہمیں کمنٹری سننے پر مجبورنہ کریں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ریفرنس پر کوئی بیان جاری نہیں کیا خبر حکومت نے لیک کی۔ مزید تین سال بینچ میں رہنے یا پینشن لینے میں کوئی دلچسبی نہیں۔ میری دلچسبی صرف عدلیہ کی عزت اور احترام میں ہے۔آج میرا ٹرئل ہو رہا ہے کل آپ بھی میری جگہ ہو سکتےہیں، تمام ججز کی بھی فائلیں تیارہیں، اس کو فائز عیسی کا مقدمہ نہ دیکھیں، عدلیہ کے وقار کا معاملہ ہے، کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔

