پاکستان24 متفرق خبریں

جائزہ لے رہے ہیں کہ ڈسکہ الیکشن شفاف تھے یا نہیں؟ سپریم کورٹ

مارچ 19, 2021

جائزہ لے رہے ہیں کہ ڈسکہ الیکشن شفاف تھے یا نہیں؟ سپریم کورٹ

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ڈسکہ این اے 75 میں ضمنی الیکشن دوبارہ کرانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر اپیل میں عدالتی بینچ سندھ ہائیکورٹ کے حکم نامے کا ذکر کیا ہے جہاں ایک قتل پر ری پولنگ کی گئی تھی۔

جمعے کو سماعت کے دوران جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ ڈسکہ الیکشن کو کالعدم کرنا انتظامی فیصلہ تھا اور انتظامی فیصلہ تو فوری کرنا پڑتا ہے الیکشن کمیشن نے پولیس کے عدم تعاون کا غصہ نکالا۔عدم تعاون دوبارہ پولنگ کا جواز نہیں ہوسکتا۔ پولیس کیخلاف تو کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔ آئینی اداروں کا احترام کرتے ہیں۔ کمیشن کا تفصیلی فیصلہ اورجواب اہمیت کے حامل ہیں۔ جائزہ لے رہے ہیں انتخابات شفاف ہوئے یا نہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ تحریک انصاف اورمسلم لیگ ن کے امیدوار پیش ہوئے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق قانون کی خلاف ورزی پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا۔انہوں نے کہا پیش کردہ نقشے کے مطابق 20 پریذائڈنگ افسران صبح تک غائب تھے، تمام کشیدگی ڈسکہ کے شہری علاقہ میں ہوئی، الیکشن کمیشن کا تفصیلی فیصلہ اور جواب اہمیت کے حامل ہیں۔ان کا کہنا تھا 20 پریذائیڈنگ افسران جہاں سے لاپتہ ہوئے وہاں فائرنگ کا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ حلقہ میں تصادم ہوئے اور پولیس دیکھتی رہی۔ شائد پولیس کی انتخابات کے حوالے سے ٹریننگ نہیں تھی۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کچھ پریزائڈنگ افسران نے اپنے فون بند کر دیے اور اکھٹے غائب ہوگئے۔ تمام غائب ہونے والے پریزائڈنگ افسران صبح یکایک ایک ساتھ نمودار ہوئے۔ کیا تمام پریذائڈنگ افسران غائب ہو کر ناشتہ کرنے گئے تھے؟عدالت کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق قانون کی خلاف ورزی پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا۔ الیکشن کمیشن کا تفصیلی فیصلہ اور جواب اہمیت کے حامل ہیں۔سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ انتخابات کا حکم معطل بھی کردیں تو کچھ نہیں ہوگا۔بہترہےابھی ایسے ہی چلنے دیں۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ڈسکہ انتخابات میں قانون پرعمل نہیں ہوا۔ الیکشن کمیشن نے پولیس کے عدم تعاون کا غصہ نکالا۔ عدم تعاون دوبارہ پولنگ کا جواز نہیں ہوسکتا۔ پولیس کے خلاف تو کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔ آئینی اداروں کا احترام کرتے ہیں۔ کمیشن کا تفصیلی فیصلہ اورجواب اہمیت کے حامل ہیں۔ جائزہ لے رہے ہیں انتخابات شفاف ہوئے یا نہیں۔

سپریم کورٹ نے ن لیگی امیدوار نوشین افتخار کے وکیل سلمان اکرم راجا کو ویڈیو لنک میں دلائل کی اجازت دیتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے تک کے لیے ملتوی کردی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے