قائداعظم یونیورسٹی ہٹس کے مجید کا انتقال،”کرائسز ڈش کے بانی ہمیشہ یاد رہیں گے“
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی کے ہَٹس جہاں طلبہ و طالبات کھانا کھاتے ہیں اپنی منفرد پہچان رکھتے ہیں اور مجید ہٹس اور ان کی مختلف کھانے ملا کر بنائی گئی کرائسز ڈِش مقبولِ خاص و عام رہی۔
اتوار کو ان کے انتقال پر سوشل میڈیا صارفین نے دکھ و رنج کا اظہار کیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق اور قائداعظم یونیورسٹی کی سابق پروفیسر شیریں مزاری نے بھی مجید کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت کی ہے۔
شیریں مزاری نے ٹویٹ کیا کہ مجید کی کرائسز ڈِش اور آلو انڈے لذیذ کھانے تھے۔ افسوس کہ ماضی کا ایک اور باب کھو گیا، وہ قائداعظم یونیورسٹی کی زندگی کا اہم حصہ تھے۔
صحافی مطیع اللہ جان نے لکھا کہ سنہ۱۹۹۰ میں یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو پہلا سٹاپ مجید کی ہٹ تھا، ڈیفنس اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں میڈم زیبا کرائسز مینجمنٹ کا مضمون پڑھاتی تھیں، چھٹی ٹائم مجید کی ہٹ پر “ کرائسز ڈِش” کھانے کو ملی تو مزہ آ گیا۔ اللہ مجید صاحب کی مغفرت فرمائے۔
Sad indeed. He was such an integral part of QAU life – sitting at the huts, esp in winter, & eating his delicious spicy food! Esp loved his aloo anda & crisis (components depended upon the day)! RIP. Another part of one's past gone. @DushkaSaiyid https://t.co/JJLDqEDYFr
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) March 21, 2021
عمران سعید خان نامی ٹوئٹر ہینڈل سے مجید کی تصویر ٹویٹ کر کے ان کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔
قائداعظم یونیورسٹی کے متعدد سابق طلبہ نے لکھا ہے کہ وہ مجید کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

