پاکستان میں کورونا کی نئی لہر: ایک دن میں 44 ہلاک، اسلام آباد کے کئی علاقے بند
پاکستان میں کورونا کی نئی لہر کے دوران وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی آئی ہے اور وفاقی دارالحکومت کے کئی علاقوں میں انتظامیہ نے سمارٹ لاک ڈاؤن کیا ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے تین ہزار چھ سو 67 کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ 44 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اتوار کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) کی جانب سے جاری کیے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ ’کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک 44 افراد میں سے 10 وینٹی لیٹرز پر تھے۔ 42 مریض ہسپتالوں میں ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دو ہسپتالوں سے باہر ہلاک ہوئے ہیں۔‘
این سی او سی کے مطابق سنیچر کو پاکستان میں 41 ہزار نو سو 60 افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے۔
وفاقی دارلحکومت کے متعدد علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاون کرتے ہوئے داخلی و خارجی راستوں پر بلاکس رکھ دیے گئے اور خاردار تاریں بچھائی گئی ہیں۔
اسلام آباد انتظامیہ نے پیدل چلنے والوں کے راستے کھلے رکھے ہیں جس پر شہری کہتے ہیں کہ حکومت کا سمارٹ لاک ڈاون کرنے کا تجربہ ناکام ہے۔
اسلام آباد میں کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کریک ڈاون کرتے ہوئے خلاف ورزی کرنے والوں کو ایک لاکھ سے زائد کا جرمانہ کیا گیا ہے جبکہ مارکیز سیل، 660 دکانیں بند کروائی گئیں۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 30 ریسٹورینٹس کو سیل کیا گیا، 660 دکانوں کو ایس او پیز کی خلاف ورزی پر بند کرا دیا گیا۔ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر دو مارکیز کو سیل کیا گیا۔
این سی او سی کی ہدایات پر عمل کو یقینی بنانے کے لیے 52 سکولوں اور 28 مساجد کا بھی معائنہ کیا گیا۔

