پاکستان پاکستان24

گیلانی کی سینیٹ چیئرمین الیکشن درخواست ناقابل سماعت: ہائیکورٹ

مارچ 24, 2021

گیلانی کی سینیٹ چیئرمین الیکشن درخواست ناقابل سماعت: ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کے نتائج کو چیلنج کرنے کی یوسف رضا گیلانی کی درخواست ناقابل سماعت ہے۔

بدھ کی شام ہائیکورٹ نے 13 صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت توقع رکھتی ہے پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے گا، توقع ہے پارلیمنٹ کے مسائل پارلیمنٹ کے اندر ہی حل کئے جائیں گے۔

قبل ازیں بدھ کی صبح سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے تھے کہ عدالت پارلیمنٹ پر غیر ضروری تنقید سے خود کو دور رکھتی ہے۔ کیا پارلیمان کی اندرونی کارروائی عدالت میں چیلنج کی جا سکتی ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے دلائل میں کہا کہ چیئرمین سینٹ کے الیکشن میں پارلیمان کا بزنس یا پروسیجر شامل نہیں۔ عدالت میں پروسیجر نہیں بلکہ الیکشن چیلنج کر رہا ہوں۔ اس عدالت نے طے کرنا ہے کہ جو سات ووٹ مسترد ہوئے وہ درست ہوئے یا غلط۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے سینیٹر سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے دائر چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کے نتائج کیخلاف درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار وکیل فاروق ایچ نائیک اور جاوید اقبال وینس عدالت میں پیش ہوئے۔ فاروق ایچ نائیک نے درخواست پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سید یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ووٹ مسترد کر دیے گئے۔ مہر یوسف رضا گیلانی کے نام پر لگی لیکن اسی خانے کے اندر تھی۔ پریذائیڈنگ افسر نے کہا کہ میرے ووٹ مسترد کرنے کے فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیں۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ چیئرمین سینٹ کے الیکشن کس قانون کے تحت ہوئے جس پر فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ چیئرمین سینیٹ کا الیکشن آئین کے آرٹیکل 60 کے تحت ہوا۔ فاروق ایچ نائیک نے موقف اپنایا کہ صدر پاکستان نے سینیٹر مظفر شاہ کو سینیٹ الیکشن میں پریزائیڈنگ افسر مقرر کیا۔ عدالت کے استفسار پر فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ چیئرمین سینیٹ الیکشن میں الیکشن کمیشن کا کوئی کردار نہیں۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ پھر پارلیمان کی اندرونی کارروائی کے استحقاق کے آئین کے آرٹیکل 69 سے کیسے نکلیں گے؟ کیا جو پارلیمان کی اندرونی کارروائی ہوتی ہے وہ عدالت میں چیلنج کی جا سکتی ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ اگر پروسیجر میں کوئی بے ضابطگی ہو تو وہ عدالت میں چیلنج نہیں کی جا سکتی۔ رولز میں بیلٹ پیپر یا ووٹ سے متعلق کچھ نہیں، رولز اس حوالے سے خاموش ہیں۔ 12 مارچ کے چیئرمین سینٹ کے الیکشن میں پارلیمان کا بزنس یا پروسیجر شامل نہیں۔ میں عدالت میں پروسیجر نہیں بلکہ الیکشن کو چیلنج کر رہا ہوں۔ پروسیجر یا رولز آف بزنس میں چیئرمین سینٹ الیکشن شامل نہیں ہے۔

فاروق ایچ نائیک نے موقف اپنایا کہ سیکرٹری سینٹ نے ہدایات دیں کہ خانے کے اندر کہیں بھی مہر لگائی جاسکتی ہے۔ شیری رحمان، سعید غنی اور میں نے بھی بیان حلفی عدالت میں دیا ہے کہ سیکرٹری سینٹ نے خانے کے اندر کہیں بھی مہر لگانے کا کہا۔ سیکرٹری سینٹ کے کہنے کے بعد ہی ہم نے اپنے سینیٹرز کو کہیں بھی مہر لگانے کا کہا۔ فاروق ایچ نائیک نے مزید کہا کہ یہ تاریخ میں پہلی بار ہے کہ چیئرمین سینیٹ کا انتخاب عدالت میں چیلنج ہوا ہے۔ اس کیس میں عدالت تاریخی فیصلہ دے گی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ یوسف رضا گیلانی کیس میں سپریم کورٹ نے پارلیمان کی اندرونی کارروائی سے متعلق آبزرویشن دی تھی۔

فاروق ایچ نائیک نے موقف اپنایا کہ آصف علی زرداری کو چیئرمین سینٹ نے سینٹ میں جا کر حلف لینے سے روک دیا تھا، سندھ ہائیکورٹ نے قرار دیا تھا کہ یہ پارلیمان کا اندرونی معاملہ نہیں ہے۔ سندھ ہائیکورٹ کے چار رکنی بینچ نے چیئرمین کو آصف زرداری کو سینیٹ میں حلف لینے دینے کا حکم دیا۔ فاروق ایچ نائیک نے مزید کہا کہ چیئرمین سینیٹ کا الیکشن پریزائیڈنگ افسر نے کرایا، چیئرمین سینیٹ خود بھی اس وقت امیدوار تھے۔ میری استدعا ہے کہ اس درخواست کو سماعت کے لئے منظور کیا جائے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا یوسف رضا گیلانی کا کیس یہ ہے کہ وہ الیکشن جیت گئے اور بدنیتی سے ان کے ووٹ منسوخ کیے گئے؟ کیا آئین میں اس سے متعلق کوئی فورم بتایا گیا ہے؟ اگر چیئرمین سینیٹ غلط منتخب ہو جائے تو اسے ہٹانے کا طریقہ کار کیا ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے تحریک عدم اعتماد کا طریقہ کار موجود ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر یوسف رضا گیلانی کو لگتا ہے کہ ان کے پاس ووٹ زیادہ ہیں تو وہ چیئرمین سینیٹ کو اس طرح کیوں نہیں ہٹایا جا رہا؟ فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ اس کے لیے ہمیں پہلے صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ ماننا پڑے گا۔ ہم نے تو صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ تسلیم ہی نہیں کیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب بھی ایسا ہی ہوا؟

فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ نہیں چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں معاملہ مختلف ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمان پر غیرضروری تنقید سے یہ عدالت خود کو دور رکھتی ہے۔ کیا سینیٹ کی اپنی کوئی استحقاق کمیٹی ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ اس کمیٹی کے تاحال رولز ہی نہیں بن سکے وہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹا نہیں سکتی۔ اس عدالت نے طے کرنا ہے کہ جو سات ووٹ مسترد ہوئے وہ درست ہوئے یا غلط۔ وکیل فاروق ایچ نائیک کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے