پاکستان میں 50 برس سے زائد عمر کے شہریوں کے لیے وکیسینیشن کب سے؟
پاکستان میں کورونا کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے تشکیل دیے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اور وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے اعلان کیا ہے کہ ’ 50 سال سے زائد عمر کے پاکستانی شہریوں کے لیے کورونا ویکسین کی رجسٹریشن کا آغاز 30 مارچ سے کر دیا جائے گا۔‘
جمعے کو ٹوئٹر پر ایک ٹویٹ میں انھوں نے بتایا کہ ’ 60 سال سے زائد عمر کے شہریوں کی رجسٹریشن اور ویکسینیشن کا آغاز پہلے ہی ہو چکا ہے۔ اب 50 سال سے اوپر کے شہریوں کی رجسٹریشن کی جائے گی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایسے تمام افراد جن کی عمر 50 سال سے زائد ہے ان پر کورونا ویکسین لگوانے اور رجسٹریشن کے لیے زور دیں۔‘
خیال رہے کہ پاکستان میں پہلے سے دو مراحل میں ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کو ویکسین لگانے کا آغاز دو فروری کو ہوا۔
دوسرے مرحلے میں 60 سال سے زائد عمر کے بزرگ شہریوں کو کورونا ویکسین لگانا شروع کی گئی، جبکہ تیسرے مرحلے میں 50 سال سے زیادہ عمر کے شہریوں کو ویکسین لگائی جائے گی۔
پاکستان میں وفاقی حکومت نے نجی کمپنیوں کو بھی ویکسین درآمد کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) نے وفاقی کابینہ کی منظوری سے روسی اور چینی کمپنیوں کی ویکسین کی قیمتیں بھی مقرر کر دی ہیں۔
ویکسین لگوانے کے لیے شہریوں کو شناختی کارڈ نمبر 1166 پر میسج بھیج کر رجسٹریشن کرانا ہوگی جس کے بعد رجسٹریشن کا عمل مکمل ہونے کا جوابی پیغام موصول ہوگا۔
رجسٹریشن کے لیے نادرا نے ایک خصوصی سافٹ ویئر بھی بنایا ہے جسے نیشنل امیونائزیشن مینجمنٹ سسٹم (این آئی ایم ایس) کہا جاتا ہے۔
ویکسینیشن سینٹرز پر شہریوں کی سہولت کے لیے معلوماتی کاؤنٹرز بنائے گئے ہیں جہاں آنے والے تمام افراد کے نام، عمر اور درجہ حرارت کا اندراج کیا جاتا ہے۔
شناخت کی تصدیق کے بعد شہریوں کو تربیت یافتہ عملے کی جانب سے ویکسین لگائی جائے گی۔ ویکسین لگنے کے بعد کم سے کم 30 منٹ تک ویکسینیشن سینٹر میں ہی رکھا جاتا ہے تاکہ مانیٹر کیا جا سکے کہ ویکسین کے کوئی سائیڈ افیکٹس تو ظاہر نہیں ہو رہے۔

