فارن فنڈنگ کی سکروٹنی مکمل،تحریک انصاف نے 53 اکاؤنٹس اور 31 کروڑ چھپائے
پاکستان میں حکمران جماعت تحریک انصاف کو غیر ملکی فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کی کمیٹی نے سکروٹنی مکمل کر کے رپورٹ پیش کر دی ہے۔
منگل کو فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کی قائم کردہ سکروٹنی کمیٹی نے تحریک انصاف کی آڈٹ فرم پر سوالات اٹھائے ہیں۔
سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی فنڈنگ کی آڈٹ رپورٹ اکاؤنٹنگ کے معیار پر پورا نہیں اترتی اور یہ کہ پارٹی کی جانب سے الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے ڈیکلریشن میں بینک اکاؤنٹس ظاہر نہیں کیے۔
سکروٹنی رپورٹ کے مطابق پارٹی نے الیکشن کمیشن کے سامنے 12 بینک اکاؤنٹس ظاہر کیے جبکہ 53 اکاؤنٹس کو چھپائے رکھا۔
رپورٹ کے مندرجات کے مطابق تحریک انصاف کے 31 کروڑ روپے سے زیادہ کے عطیات الیکشن کمیشن میں ظاہر نہیں کیے۔
قبل ازیں الیکشن کمیشن میں سماعت کے موقع پر تحریک انصاف کے وکیل شاہ خاور نے استدعا کی کہ سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کو عام نہ کیا جائے۔
کمیشن نے کہا کہ مقدمے کی سماعت اوپن ہے اس لیے اس درخواست کو قبو نہیں کیا جا سکتا۔
درخواست گزار اکبر ایس بابر نے بتایا کہ تین سال اور نو ماہ بعد سکروٹنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ مکمل کی۔
رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی نے پارٹی فنڈز سے متعلق الیکشن کمیشن کو غلط معلومات فراہم کیں۔

