بلدیاتی الیکشن، کراچی اور اندرون سندھ پیپلز پارٹی پہلے نمبر پر
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سندھ میں دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج جاری کر دیے ہیں جس کے مطابق کراچی میں کوئی بھی جماعت سادہ اکثریت حاصل نہیں کر سکی۔
تاہم نشستوں کے اعتبار سے پاکستان پیپلز پارٹی 93 نشستوں کے ساتھ پہلے اور جماعت اسلامی 86 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ نتائج کے مطابق پاکستان کے سب بڑے شہر کراچی میں کوئی بھی سیاسی جماعت واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔
جبکہ حیدرآباد ڈویژن میں سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔
کراچی میں 2018 کے انتخابات میں سب سے زیادہ قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں حاصل کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف اپنے میئر کے امیدوار خرم شیر زمان کی نشست کے ساتھ ساتھ ماضی میں اکثریتی ووٹ حاصل کرنے والی یوسیز سے بھی خاطر خواہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔
سندھ کے 16 اضلاع کے جاری کردہ نتائج کے مطابق سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی پہلے نمبر پر ہے۔
کراچی کے سات اضلاع کی 246 یوسیز میں 235 پر انتخابات منتعد ہوئے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جاری کردہ نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی 93 سیٹس لے کر پہلے نمبر پر ہے، 86 نشستیں لے کر جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر ہے، 40 نشستوں کے ساتھ پی ٹی آئی تیسرے نمبر پر ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ کو 7، جمیعت علمائے اسلام کو تین ٹی ایل پی کو دو، ایم کیو ایم حقیقی کی ایک نشست اور تین آزاد امیدواروں نے نشستیں حاصل کی ہیں۔
سندھ کے شہری علاقوں کی مضبوط سمجھی جانے والی جماعت ایم کیوایم پاکستان نے حلقہ بندیوں پر اعتراض کرتے ہوئے الیکشن کا بائیکاٹ کیا۔
جس کے بعد سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں پہلی بار پاکستان پیپلز پارٹی نے واضح برتری حاصل کی اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی بنا کسی اتحاد کے اپنا میئر منتخب کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
ضلع حیدرآباد کی 160 یو سیز میں سے 113 کے نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی 73 یوسیز جیتنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ جبکہ 31 یوسیز پیپلز پارٹی بلا مقابلہ ہی جیت چکی تھی۔

