اسلام آباد میں دو افراد کو کچل کر ہلاک کرنے والے فوجی افسر بلال فیصل ملٹری پولیس کے حوالے
اسلام آباد پولیس نے تصدیق کی ہے کہ رواں ہفتے دو فلسطین کی حمایت میں دھرنا دینے والے مظاہرین پر گاڑی چڑھانے والے ڈرائیور کی شناخت ایک فوجی افسر کے طور پر کی گئی جسے ملٹری پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
گزشتہ کئی دنوں سے اسلام آباد میں ڈی چوک پر مظاہرین نے کیمپ لگائے ہیں۔
پیر کو رات گئے چند مظاہرین پر تیز رفتار گاڑی چڑھانے کے واقعے میں دو افراد ہلاک اور چار زخمی ہو گئے تھے۔
گاڑی کا ڈرائیور جائے وقوعہ سے فرار ہو گیا تھا تاہم پولیس نے اسے تھوڑی دیر بعد گرفتار کر لیا تھا۔
اسلام آباد پولیس کے ترجمان تقی جواد نے میڈیا کو بتایا کہ ’جناح ایونیو پر دو افراد کو کچل کر ہلاک کرنے والے ڈرائیور کو جائے وقوعہ سے گرفتار کر لیا گیا تھا اور ان کی شناخت ایک فوجی افسر کے طور پر ہوئی۔‘
انہوں نے کہا کہ ڈرائیور کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے اور بعد میں مزید قانونی کارروائی کے لیے ملٹری پولیس کے حوالے کر دیا گیا تھا۔‘
رات دیر گئے تیز رفتاری کے باعث سڑک پر سوئے مظاہرین کو کچلنے والے لیفٹیننٹ بلال فیصل کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ان کے والد فوج میں بریگیڈیئر ہیں.

