بلاسفیمی مقدمات کی تفتیش میں ایف آئی اے کا کردار انتہائی مشکوک ہے: اسلام آباد ہائیکورٹ
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے کہا ہے کہ توہین مذہب یا بلاسفیمی کے مقدمات کی تفتیش میں ایف آئی اے کا کردار انتہائی مشکوک ہے۔
منگل کو توہین مذہب کے ایک جیسے مشکوک مقدمات کے مدعیان کے مبینہ گینگ کی انکوائری کے لیے کمیشن تشکیل دینے کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ایف آئی اے کے تفتیشی افسران نے لگ بھگ تمام مقدمات میں ایک جیسے مدعیوں کے سامنے آنے کے بعد بھی کوئی سوال نہ اٹھایا.
جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے کہا کہ نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس ایک سرکاری ادارہ ہے، قانون کے تحت بنا ہے، اُس نے جیلوں میں قید 93 ملزمان کے انٹرویو کیے اور سب نے کہا کہ اُن کو ایک ہی طریقے سے بلاسفیمی کے مقدمات میں پھنسایا گیا اور اُس پر ایف آئی اے نے کوئی محکمانہ انکوائری ہی نہ کی۔
انہوں نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر لیگل کے جواب پر نہایت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اُن کو اپنی نشست پر بیٹھنے کی ہدایت کی۔
سماعت کی تفصیل اس ویڈیو لنک میں موجود ہیں۔

