سگی ماں کو قتل کرنے والے 18 سالہ رومل کی آنکھوں میں آپ کو کیا نظر آتا ہے؟
ننگولئی کے رومل خان کی آنکھوں میں آپ کو کیا نظر آتا ہے؟
علی ارقم – صحافی
ماں کو قتل کرنے کے بعد ہتھکڑیاں ہاتھ میں پہنے پولیس موبائل میں بیٹھا رومل خان براہ راست کیمرے میں تو نہیں دیکھ رہا لیکن اس کا انداز ایسا ہے جیسے وہ اردگرد سے، ماحول اور منظر سے بیگانہ و بے نیاز ہے.
میں اس کی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کر رہا ہوں، اس کی اندرونی کیفیت سے واقف نہیں اس لیے کوئی ججمنٹ دینا زیادتی ہوگی کہ ان آنکھوں میں ملال یا تاسف ہے یا کچھ کر دکھانے یا ثابت کرنے کے بعد کا احساس طمانیت یے
کیا اسے اندازہ ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے یا ایسے کہیں کہ کیا اسے اس بات کی کوئی پرواہ ہے؟
رومل خان، تو شاید ایک قتل کرنے والا روبوٹ ہے جس نے اپنی ماں 37 سالہ روزینہ پر جوڈیشل کمپلیکس کی زنانہ انتظار گاہ میں گولیاں چلا کر اس کی زندگی کا چراغ گل کر دیا۔ اس سفاکانہ جرم کے ارتکاب کا محرک اس نے خاندان، رشتہ داروں اور دیگر لوگوں کی جانب سے اس کی ماں کے کردار پر انگلیاں اٹھانے اور طعنہ زنی کو قرار دیا ہے۔
رومل کی تصویر سے اس کی عمر کا اندازہ نہیں لگتا کہ وہ اٹھارہ سال کا ہے، یہ کم عمر ہے لیکن اس جرم کا محرک جو بھی ہو بہرحال اس سفاکانہ اقدام کا ذمہ دار وہ خود ہی ہے اور اسے اس کی پوری سزا ملنی چاہیے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ وہ تمام لوگ جو طنز، طعنوں اور الزامات کی بنیاد پر رومل کے ساتھ اس جرم کی اعانت یا مدد میں شامل تھے، وہ کسی کٹہرے میں نہیں لائے جا سکیں گے
یہ واقعہ صرف ایک ماں کا قتل نہیں، یہ پورے سماجی ذہن کی وحشیانہ تجسیم اور اس کے خلاف فرد جرم ہے۔ یہ قتل ہمیں بتاتا ہے کہ عورتوں کی زندگی کنٹرول کرنے کیلئے ہمارا سماج کس حد تک جا سکتا ہے، وہ قتل ہوتی ہے، کسی پیارے، کسی عزیز کے ہاتھ جیسے اس بار وہ بیٹے کے ہاتھوں زندہ رہنے کے حق سے محروم کی گئی ہے
سینتیس سال زرینہ کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ اپنے نکاح کی تنسیخ چاہتی تھی جو کہ اس کا قانون حق تھا چاہے اس کی وجہ جو بھی رہی ہو، اس کا یہ اقدام جرات کا متقاضی تھا کیونکہ ہمارے سماج پھر بالخصوص پشتونوں میں طلاق یا خلع کی صورت میں کسی خاتون کا سروائیول آسان نہیں اور زرینہ کے معاملے میں جب معاملہ یہاں تک تھا کہ وہ گھر اور خاندان سے الگ دارالامان میں پناہ لینے پر مجبور تھی حالات کی سنگینی کا اشارہ تھا
یہ بات بلاشبہ نہایت ضروری ہے کہ اس قتل کو رومل خان کی ذہنی کیفیت یا نفسیاتی دباؤ سے جوڑ کر دیکھا جائے لیکن اس جرم کی نوعیت اور محرک اسے انفرادی زاویے سے زیادہ سماجی نقطہ نظر سے دیکھنے کے متقاضی ہیں
سماجی ماہر ایرک فروم کے مطابق ایرک فروم کے مطابق، فرد کا کردار اور رویہ محض ذاتی انتخاب کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ اس کی تشکیل سماج کی ساخت، اقدار، اور مختلف رویوں کے اظہار کے سماج کے طے کردہ پیمانوں کے ذریعے ہوتی ہے۔
جب ایک معاشرہ مرد کو یہ سکھاتا ہے کہ اس کی عزت اور خودی عورت کے کردار سے مشروط ہے، تو ایسا مرد خود کو سماجی توقعات کا محافظ سمجھنے لگتا ہے، اور وہ جارحیت یا حتیٰ کہ قتل جیسے اقدامات کو ایک اخلاقی فرض سمجھ کر انجام دے سکتا ہے، چاہے قتل ہونے والی اس کی ماں ہی کیوں نہ ہو
فرانسیسی دانشور مشیل فوکو کہتے ہیں کہ سماج طاقت کو صرف جبر سے نہیں بلکہ نارم بنانے سے نافذ کرتا ہے۔ یعنی ایسا عمل جسے سماجی طور پر بعض اوقات ناپسندیدہ ہی سہی لیکن معمول کی بات سمجھا جائے، اس لیے جب بدچلنی، بےحیائی، عزت، اور غیرت جیسے الفاظ بار بار دہرائے جاتے ہیں، تو وہ قانون سے زیادہ طاقتور بن جاتے ہیں۔
عدالت، دارالامان، پولیس، یہ سب ادارے بظاہر محفوظ مقام سمجھے جاتے ہیں، مگر جب قتل وہاں ہوتا ہے، تو یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ طاقت کی اصل زبان ان اداروں کے باہر بولی جاتی ہے یعنی گلی، محلے، خاندان، اور روایات
یہاں غیرت محض ایک جذباتی کیفیت نہیں، بلکہ سماجی کنٹرول کا آلہ ہے، خاص طور پر عورتوں کے لیے۔ عورت اگر گھر سے باہر یعنی دارالامان چلی جائے، عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے، یا خاندان کے بڑوں کے فیصلے سے اتفاق نہ کرے، تو سماج فوراً اس پر تہمت یا داغ لگا دیتا ہے، جسے دھونے کیلئے اس کے عزیز مرد (شوہر، بھائی، باپ، بیٹے) سے خون مانگا جاتا ہے، وہ اگر قتل کر ڈالے تو سماج کا بڑا حصہ اسے خاموش داد دیتا ہے یا اس
جرم کو جواز عطا کرتا ہے
اس کی ایک مثال فیس بک پر واقعے کی رپورٹنگ میں دیکھ سکتے ہیں جس میں کہتے ہیں کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق خاتون پر بد چلنی کا الزام تھا، جیسے خاتون خلع یعنی علیحدگی کے مطالبے کیلئے نہیں بلکہ کسی اخلاقی عدالت میں اس الزام کے تحت پیش ہوئی ہو
جیسے پاکستانی ماہرِ عمرانیات نیلم حسین لکھتی ہیں کہ ہمارے سماج میں غیرت کے نام پر قتل، مرد کی جذباتی یا نفسیاتی کیفیت کا مسئلہ نہیں، بلکہ اجتماعی تربیت کا نتیجہ ہے، مرد کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ عورت اس کی عزت ہے، اور اگر وہ آزاد ہو گئی، تو اس کی عزت بھی گئی۔
سپرنا چودھری جنوبی ایشیائی سماجوں میں غیرت کے نام پر قتل کو مرد کی خاندانی ڈائنامکس میں اپنی شکست خوردہ مردانگی کو طاقت میں بدلنے کی کوشش مانتی ہیں، ان کے مطابق اگر عورت سماج کے طے کردہ دائرے سے نکلے، تو اسے سزا دینا مرد کی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔
یہی بات بل یکس بھی کہتی ہیں، کہ عورت کی خودمختاری کو جرم بنانے کے لیے مذہب، ثقافت، اور قانون تینوں کا استعمال کیا جاتا ہے اور پھر مرد کی قاتلانہ نفسیات پیدا ہوتی ہے، مگر اس
کی جڑیں پورے سماج میں ہوتی ہیں۔
لیکن اس پوری بحث میں یہ بات قطعاً نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ زرینہ جو عدالت میں پیشی پر تھی، وہ دارالامان میں مقیم تھی اور وہاں سے لائی گئی تھی تو اس کی حفاظت کی ذمہ داری ریاستی اداروں پر عائد ہوتی ہے جو غفلت کے ارتکاب کی ذمہ دار ٹھہرتی ہیں
غالب امکان یہی ہے کہ کسی سطح پر جاکر رومل خان سزا سے بچ جائے گا، شاید اس بات کی یقین دہانی اسے پہلے ہی کردی گئی ہو، لیکن اسے سزا ہونا نہ ہونا شاید اتنا اہم نہیں جتنا اس سماج کا محاکمہ ہے جو اعانت جرم کا مرتکب اور مکمل طور پر اس جرم میں شریک ہے.
رومل خان کی آنکھوں سے بظاہر جھلکتی بیگانگی کو ایرک فروم کے الفاظ میں کہیں تو وہ کہتے ہیں کہ جب انسان سماج کے بنائے ہوئے سانچوں میں خود کو زبردستی فٹ کرتا ہے، تو وہ خود سے بیگانگی کا شکار ہو جاتا ہے، اور بعض اوقات شدید ردعمل دیتا ہے۔ شاید اسے کسی موقع پر ادراک ہو کہ اس نے کون سا گناہ عظیم کیا ہے؟
کیوں نہ رومل خان کو وعدہ معاف گواہ بنا کر ان تمام چہروں کو بے نقاب کیا جائے اور ان کرداروں کو سزا دلوائی جائے تاکہ پھر کوئی زرینہ قتل نہ ہو جسے پورے گاؤں پورے سماج نے سزائے موت سنائی ہے.

