پاکستان

مبینہ بلاسفیمی بزنس گینگ کیس، پُراسرار کومل اسماعیل عدالت میں پیش

جولائی 29, 2025

مبینہ بلاسفیمی بزنس گینگ کیس، پُراسرار کومل اسماعیل عدالت میں پیش

بلاسفیمی کے کیسز میں لوگوں کو مبینہ طور پر نوجوانں کو ہنی ٹریپ کر کے پھنسانے والی ملزمہ کومل اسماعیل (ایمان) منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں برقعہ اوڑھ کر ڈویژن بینچ کے سامنے پیش ہوئیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم سومرو اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اپیل کی سماعت کی۔

یاد رہے کہ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ایف آئی اے کو ایک سے زائد بار آرڈر کیا تھا کہ وہ دیگر تفتیشی محکموں سے مل کر کومل اسماعیل کو ڈھونڈیں مگر ایف آئی نے ہمیشہ عدالت کو رپورٹس دیں کہ اُن کا سراغ نہیں مل رہا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے شناختی کارڈ بلاک کرنے کے حکم کے خلاف کومل اسماعیل کی انٹراکورٹ اپیل پر اُن کو ریلیف نہیں دیا۔

کومل جا شناختی کارڈ اور اکاؤنٹس بلاک ہیں جبکہ اُن کا نام ای سی ایل میں شامل ہے۔

ڈویژن بینچ کے سربراہ جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ جو آرڈر چیلنج کیا گیا وہ عبوری آرڈر ہے اور عبوری آرڈر کو تو ہم ہاتھ بھی نہیں لگائیں گے، سپریم کورٹ کی بڑی واضح ہدایات ہیں اور جسٹس منصور علی شاہ نے حالیہ فیصلہ دیا ہے کہ عبوری آرڈر کو انٹراکورٹ اپیل میں معطل نہیں کیا جا سکتا۔

ڈویژن بنچ میں انٹراکورٹ اپیل کی سماعت کے دوران بنچ کے سربراہ جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ "بلاسفیمی کے جن مقدمات کے فیصلے کیے جا چکے، سزائیں یا بریت ہو چکی اُن پر بعد میں دوبارہ کمیشن تشکیل نہیں دیا جا سکتا، ایک ہائیکورٹ کا جج دائرہ اختیار سے بڑھ کر پورے پاکستان کے کونے کونے کے کیسز پر کمیشن نہیں بنا سکتا اِس لیے ہم نے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کا آرڈر معطل کیا”.

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ریمارکس دینے والے جسٹس سومرو نے تاحال جسٹس سردار اعجاز اسحاق کے فیصلے کو معطل کرنے کا تحریری آرڈر جاری نہیں کیا.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے