تفتیش مکمل کیوں نہ کی؟ توہین مذہب کے مقدمے میں 21 ماہ سے گرفتار ملزم کی ضمانت
توہین مذہب کے مقدمے میں 21 ماہ سے قید ملزم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے عاصم اللّٰہ کی رہائی کے احکامات جاری کیے ہیں۔
منگل کو ملزم عاصم اللہ کے وکیل آصف تمبولی نے عدالت کو بتایا کہ اُن کا مؤکل 30 اکتوبر 2023 سے گرفتار ہے، اس مقدمے میں ایف آئی اے کی تفتیش تاحال مکمل نہیں ہوئی جبکہ ملزم کو قید میں 21 ماہ اور 18 دن ہو چُکے ہیں۔
وکیل آصف علی تمبولی کی جانب سے ضمانت کی درخواست پر دلائل مکمل ہونے کے بعد جسٹس بابر ستار نے ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر سے پوچھا کہ دو سال سے ملزم قید ہے ابھی تک انویسٹیگیشن مکمل کیوں نہیں ہوئی؟
ایف آئی اے کی جانب سے بتایا گیا کہ ملزم عاصم اللّٰہ ایک واٹس ایپ گروپ میں ایڈ تھا جہاں سے توہین پر مبنی مواد شیئر ہوتا ہے، سِم کو ٹریس کر کے سنہ 2023 اکتوبر میں ملزم کو گرفتار کیا۔
ایف آئی اے حکام سے جب پوچھا گیا کہ ٹریس کی گئی سِم کس کے نام پر ہے؟ تو عدالت کو بتایا گیا کہ سم کس کے نام پر ہے یہ پتہ نہیں چلا سکے۔
عدالت نے ضمانت منظور کرتے ہوئے ملزم عاصم اللّٰہ کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

