متفرق خبریں

ایف بی آر کو دھچکہ، ہائیکورٹ نے بحریہ ٹاؤن کے مال آف اسلام آباد کی نیلامی روک دی

ستمبر 2, 2025

ایف بی آر کو دھچکہ، ہائیکورٹ نے بحریہ ٹاؤن کے مال آف اسلام آباد کی نیلامی روک دی

ایف بی آر کو دھچکہ، ہائیکورٹ نے بحریہ ٹاؤن کے مال آف اسلام آباد کی نیلامی روک دی
اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاکستان کے وفاقی ٹیکس بورڈ (ایف بی آر) کو دھچکہ لگا ہے اور بحریہ ٹاؤن سے ٹیکس وصولی کے ضمن میں مال آف اسلام آباد کی نیلامی کا دیا گیا اشتہار واپس لینے سے عدالت کو آگاہ کر دیا ہے۔

منگل کو جسٹس خادم حسین کی سربراہی میں ڈویژن بینچ کے سامنے پیش ہو کر ایف بی آر کے وکلا نے 17 اگست کو مال آف اسلام آباد کی نیلامی کے لیے شائع کیا گیا اشتہار واپس لینے سے آگا کیا۔

اشتہار کے مطابق بحریہ ٹاؤن کی جانب سے اسلام آباد کے بلیو ایریا میں بنائے گئے ٹاور کو ٹیکس وصولی کی مد میں نیلام کرنے کا منصوبہ تھا اور یہ نیلامی بدھ تین ستمبر کو ہونا تھی۔

یہ پلاٹ بحریہ ٹاؤن نے وفاقی ترقیاتی اتھارٹی (سی ڈی اے) سے خریدا تھا۔ اب وفاقی ٹیکس بورڈ نے بحریہ ٹاؤن سے 26 ارب روپے ٹیکس ڈیفالٹ ہونے پر وصولی کے لیے اس پراپرٹی کو بیچنے کا اعلان کیا تھا۔

مال آف اسلام آباد میں 220 سرمایہ کاروں اور شہریوں نے دکانیں خرید رکھی ہیں جن میں سے 14 نے وکیل مدثر لطیف عباسی ایڈووکیٹ کے ذریعے ایف بی آر کے نیلامی کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔

پیر کو اس مقدمے کی ایک گھنٹے کی سماعت کے دوران مدثر لطیف عباسی ایڈووکیٹ نے دلائل دیے۔ اُن کا کہنا تھا کہ انکم ٹیکس رولز کے سیکشن 129 کے رولز تین و چار کے تحت ایف بی آر ٹیکس دہندہ افراد کی پراپرٹی کو اُس صورت میں فروخت کر سکتا ہے کہ اگر وہ ڈیفالٹ کرتا ہے مگر مال آف اسلام آباد بحریہ ٹاؤن کی ملکیت نہیں بلکہ یہ لوگوں نے خریدا ہوا ہے۔

وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں طے کر چکی ہے کہ اگر کوئی کمپنی ہائی رائز عمارت بنا کر شہریوں کو فروخت کر دیتی ہے تو اُن کی اندرونی ٹرانزیکشن قانونی تصور کی جائے گی کیونکہ یہاں تیسرے فریق کے حقوق آ جاتے ہیں۔

ان دلائل کے بعد عدالتی سوالات پر ایف بی آر کے وکلا نے جواب دینے کے لیے ایک دن کی مہلت لی تھی۔

منگل کو عدالت نے سوال اُٹھایا کہ نیلامی کے اخباری اشتہار میں نئے خریداروں کو بھی دھوکے میں رکھا گیا ہے کیونکہ لکھا گیا ہے کہ اس پراپرٹی میں کوئی سقم نہیں جبکہ یہ پراپرٹی پہلے ہی بحریہ ٹاؤن بیچ چکا ہے۔ اور یہاں 220 الاٹیز موجود ہیں۔

عدالت نے پوچھا کہ کسی بھی ٹیکس نادہندہ کی پراپرٹی کی نیلامی سے پہلے اس کی مکمل تحقیق قانون کا تقاضا ہے اور یہ واضح طور پر ٹیکس قانون میں درج ہے۔

مدثر لطیف عباسی ایڈووکیٹ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایف بی آر نے کوئی تحقیق نہیں کی اور اخباری اشتہار پہلے کے نیلامی کے اشتہاروں کی طرح فقط کاپی پیسٹ ہے، عدالت اس کا تقابل کر سکتی ہے۔

جسٹس خادم حسین نے ایف بی آر کے وکیل سے کہا کہ کم از کم بورڈ اپنے آرڈر اور اخباری اشتہار میں کسی کامہ یا فُل سٹاپ کی ہی کوئی تبدیلی کر دیتا۔

ایف بی آر کے وکلا اور ٹیکس کمشنر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وہ مال آف اسلام آباد کی نیلامی کا یہ اشتہار واپس لے رہے ہیں اور بدھ تین ستمبر کو اس پراپرٹی کی نیلامی نہیں کی جائے گی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے