راولپنڈی میں دیورانیوں کے درمیان جھگڑا، ایک نے دوسری پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی
راولپنڈی میں دیورانیوں کے درمیان جھگڑا، ایک نے دوسری پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی
راولپنڈی کے تھانہ دھمیال کے علاقے قائد اعظم کالونی میں مبینہ طور پر دیورانی کے ہاتھوں جلائی گئی خاتون جانبر نہ ہو سکیں۔ پولیس نے مقتولہ کے دیور کو تحویل میں لے لیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی طور پر ملزم اور اس کی اہلیہ نے واقعے کو کمپریسر پھٹنے کا حادثہ قرار دینے کی کوشش کی تھی۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں شواہد ملے کہ خاتون کو پیٹرول چھڑک کر آگ لگائی گئی تاہم واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
’مقتولہ کی لاش کا پوسٹ مارٹم کروا لیا گیا ہے اور موت کی وجہ کا تعین فرانزک اور پوسٹ مارٹم رپورٹس ملنے پر ہو گا۔‘
پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ مقتولہ کے بیٹے محمد شہیر احمد بھٹی کی مدعیت میں اقدام قتل کی دفعہ کے تحت درج کیا گیا تھا۔ نئے شواہد کی بنیاد پر ایف آئی آر میں قتل کی دفعہ کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
راولپنڈی کے سٹی پولیس افسر (سی پی او) نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے میں ملزمہ کو بھی جلد گرفتار کرلیں گے۔
سی پی او راولپنڈی کے احکامات پر فوری طور پر مقتولہ کے دیور کو تحویل لیا گیا ہے۔
مقدمہ درج کراتے ہوئے مقتولہ کے بیٹے نے پولیس کو بتایا تھا کہ گزشتہ روز ماموں نے ٹیلی فون پر والدہ کے کمپریسرپھٹنے سے جھلسنے کی اطلاع دی جب میں سی ایم ایچ پہنچا تو والدہ بے ہوش تھیں۔
’ہمشیرہ ڈاکٹر نمرہ عروج نے بتایا کہ صبح 9 بجے والدہ اور چچی کا جھگڑا ہوا جس کے بعد اُن کو گھر سے بایر نکال دیا گیا۔‘
ایف آئی آر درج کرانے والے شہیر احمد کے مطابق ’بہن نے بتایا کہ چچی حاضرہ عدیل نے دھمکی دی تھی کہ آج یا وہ رہے گی یا میری والدہ، جس کے بعد گھر کے دروازے کو کنڈی لگا دی گئی۔‘
مقدمے کے متن کے مطابق ’بہن کے اہل محلہ کو بتانے اور شور پر دروازہ کھلوایا گیا تو والدہ گھر میں جھلسی پڑی تھیں، چچی ان کے کپڑے تبدیل کر رہی تھیں۔ بہن کے پوچھنے پر چچی نے بتایا کہ کمپریسر پھٹنے سے والدہ شازیہ فاروق جھلس گئی ہیں۔ قوی یقین ہے کہ والدہ کو چچی حاجرہ عدیل نے آگ لگا کر قتل کرنے کی کوشش کی۔‘
مدعی کے مطابق گھر کے اخراجات اُن کے والد چلاتے ہیں اسی وجہ سے چچی سے اکثر جھگڑا رہتا تھا۔‘

