حافظ سعید، اور آر ایس ایس رہنماؤں سے ملاقاتیں بھارتی خفیہ ایجنسی کی ہدایات پر کیں: یسین ملک کا دہلی ہائیکورٹ میں بیان
واشنگٹن ڈی سی: سید فیصل علی
بھارت کی تہاڑ جیل میں قید کشمیری علحیدگی پسند تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یسین ملک نے حال ہی میں دہلی ہائی کورٹ کو جمع کروائے گئے بیان حلفی میں قرار دیا ہے کہ سابق بھارتی وزیرِاعظم منموہن سنگھ نے ذاتی طور پر ان کا شکریہ ادا کیا جب انہوں نے 2006 میں پاکستان میں لشکرِ طیبہ کے بانی حافظ سعید سے ملاقات کی۔ ملک کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات ان کی اپنی پہل نہیں تھی بلکہ 2005 کے کشمیر زلزلے کے بعد پسِ پردہ جاری امن عمل کے حصے کے طور پر سینئر بھارتی انٹیلی جنس حکام کی ہدایت پر طے کی گئی تھی۔
یاسین ملک کے مطابق اُس وقت بھارتی انٹیلی جنس بیورو کے اسپیشل ڈائریکٹر وی کے جوشی نے انہیں ہدایت دی کہ وہ اپنے دورہ پاکستان کے دوران وہاں کی سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ مسلح تنظیموں کے رہنماؤں سے بھی رابطہ کریں، اس دلیل کے ساتھ کہ ایسے افراد کو شامل کیے بغیر کوئی پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ یاسین ملک نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایک اجلاس میں حافظ سعید اور متحدہ جہاد کونسل (UJC) کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات کی جہاں انہوں نے مفاہمت پر زور دیتے ہوئے تقریر کی۔
ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان سے واپسی پر انہوں نے دہلی میں وزیرِاعظم سنگھ کو اُس وقت کے قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن کی موجودگی میں بریفنگ دی، جس کے بعد وزیرِاعظم نے ان کی کاوشوں پر اظہارِ تشکر کیا۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ وزیرِاعظم سنگھ نے انہیں “کشمیر میں عدم تشدد کی تحریک کا باپ” قرار دیا تھا۔
اپنی سفری پابندیوں کے حوالے سے یسین ملک نے بیان حلفی میں لکھا کہ سابق بھارتی وزیرِاعظم واجپائی اور اُس وقت کے وزیرِداخلہ ایل کے ایڈوانی دونوں نے پاک بھارت امن کوششوں کی حمایت کی اور سال 2001 میں پہلی مرتبہ یسین ملک کو زندگی میں پہلی مرتبہ پاسپورٹ جاری کیا۔ یسین ملک کا کہنا ہے کہ وہ باقاعدہ ویزوں پر کھلے عام امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب اور حتیٰ کہ پاکستان تک گئے، جہاں انہوں نے “عدم تشدد پر مبنی جمہوری پرامن جدوجہد” اور کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے مکالمے پر خطاب کیا۔
وہ اپنے حلفیہ بیان میں لکھتے ہیں: “یہ میری زندگی میں پہلی بار تھا کہ مجھے بیرونِ ملک سفر کے لیے پاسپورٹ ملا۔”
آل جموں و کشمیر حریت محاذ کانفرنس کے حوالے سے یاسین ، ملک نے بیان حلفی میں لکھا ہے کہ انہوں نے پروفیسرعبدالغنی بٹ کو کال کی تاکہ ایگزیکٹو کونسل کا اجلاس بلایا جائے۔ اگلے دن سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون، میر واعظ عمر فاروق، عباس انصاری اور خود ملک سمیت رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں وزیرِاعظم واجپائی کی جنگ بندی کی حمایت کی گئی — لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اس کے بعد مذاکرات بھی ہونے چاہئیں۔
ملک کا اس بیان حلفی میں دعویٰ ہے کہ اس اجلاس کے دوران مظفرآباد (پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر) سے ایک ٹیلی فون کال کے ذریعے متحدہ جہاد کونسل کے رہنماؤں کے ساتھ بھی ہم آہنگی کی گئی۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس عمل نے کشمیر میں ایک “مثبت ماحول” پیدا کیا۔

بھارت کی دہلی ہائی کورٹ میں جمع دستاویزات میں، جو یاسین ملک کے دو دہائیوں پر محیط روابط کی ایک روداد معلوم ہوتی ہے، اعلیٰ سطح کے مذاکرات کا ذکر ہے جن میں ہندو مذہبی تنظیموں کے رہنما دو شنکراچاریہ شامل تھے، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے رہنماؤں سے وسیع روابط، بھارتی انٹیلی جنس حکام سے ملاقاتیں، اور سابق وزیرِاعظم اٹل بہاری واجپائی کی 2000-01 کی رمضان جنگ بندی کی حمایت میں ان کے مبینہ کردار کو بیان کیا گیا ہے۔
واضح رہے یسین ملک کے عدالتی دعوں میں جن رہنماؤں یا اداروں کا ذکر ہے، کسی نے بھی تاحال اس کی تصدیق یا کوئی جواب نہیں دیا۔
یاسین ملک کا ایک مرکزی دعویٰ یہ ہے کہ ہندو مذہبی تنظیم کے رہنما دو شنکراچاریہ کئی بار ان کے سری نگر کے گھر آئے اور ان کے ساتھ پریس کانفرنس بھی کی۔عدالتی بیان حلفی میں یسین ملک نے قرار دیا ہے کہ کیا یہ دلچسپ نہیں ہے اور غور طلب نہیں، کہ اکثریتی کمیونٹی کے ایسے نمائندوں نے، جو اتنے سنگین اور نازیبا الزامات کا سامنا کر رہا ہے، اپنے اچھے نام کو میرے ساتھ جوڑنے کا فیصلہ کیا؟”
آر ایس ایس قیادت کے ساتھ روابط
یاسین ملک کے اس بیان حلفی کے مطابق انہوں نے 2011 میں نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں آر ایس ایس کے رہنماؤں کے ساتھ پانچ گھنٹے طویل “میثاقی” ملاقات کا بھی ذکر کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ملاقات دلی میں قائم سنٹر فار ڈائیلاگ اینڈ ریکنسلیئیشن (CDR) کے ذریعے ممکن ہوئی۔
ملک نے مزید کہا کہ اُس وقت کے وِویکانندہ انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کے چیئرمین ایڈمرل کے کے نائر نے انہیں متعدد مواقع پر “لنچ” کی دعوت دی، چاہے وہ نائر کے گھر میں ہو یا انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں۔
ملک نے اپنے حلفیہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ “ایک بار پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ بجائے اس کے کہ مجھ سے فاصلہ رکھا جاتا یا یوں کہوں کہ مجھ جیسے شخص سے دس فٹ کے فاصلے سے بھی نہ ٹچ کیا جاتا، آر ایس ایس کی قیادت یا آر ایس ایس کے تھنک ٹینک وِویکانندہ انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین ایڈمرل کے کے نائر نے مجھے بار بار نئی دہلی میں اپنے گھر لنچ کے لیے اور انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں مدعو کیا۔”
واجپائی کی رمضان جنگ بندی
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یسین ملک نے سابق وزیرِاعظم اٹل بہاری واجپائی کے 2000-01 میں یکطرفہ رمضان جنگ بندی کے دوران اپنے مبینہ کردار کا بھی ذکر کیا۔
ملک کا کہنا ہے کہ انہوں نے دہلی میں اجیت ڈووال سے ملاقات کی، جنہوں نے انہیں اُس وقت کے انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر شیمال دتہ اور قومی سلامتی کے مشیر برجیش مشرا سے ملایا۔ ملک کے مطابق، دونوں نے انہیں بتایا کہ وزیرِاعظم کشمیر کے مسئلے کے حل کے بارے میں سنجیدہ ہیں اور انہیں جنگ بندی کی حمایت کرنے کی ترغیب دی۔
یسین ملک کے بیان حلفی کے مطابق، ایک اور رابطے کا سلسلہ وزیرِاعظم واجپائی کے قریبی معاون آر کے مشرا کی قیادت میں چلایا گیا، جنہوں نے مبینہ طور پر یاسین ملک کو دہلی کے وسانت وِہار میں اپنے گھر مدعو کیا اور برجیش مشرا کے ساتھ ناشتے کی ملاقات کا اہتمام کیا۔
ملک کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں جے کے ایل ایف کے جنرل سیکریٹری رفیق ڈار سے رابطہ کیا اور متحدہ جہاد کونسل (UJC) کے سربراہ سید صلاح الدین کے ساتھ ٹیلی فون کال کا اہتمام کیا۔ انہوں نے صلاح الدین سے کہا کہ وہ جنگ بندی کا خیرمقدم کریں، شرط یہ رکھی کہ اس کے بعد بلاشرط مکالمہ ہونا چاہیے۔ ملک کے مطابق، صلاح الدین نے متحدہ جہاد کونسل UJC قیادت سے مشورہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
حریت محاذ کے معاملے پر، یسین ملک کا نے اپنے بیان حلفی میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے پروفیسر عبدالغنی بٹ کو کال کی تاکہ ایگزیکٹو کونسل کا اجلاس بلایا جائے۔ اگلے دن، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون، میر واعظ عمر فاروق، عباس انصاری اور خود ملک سمیت رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں وزیرِاعظم واجپائی کی جنگ بندی کی حمایت کی گئی — لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اس کے بعد مذاکرات بھی ہونے چاہئیں۔
ملک کا دعویٰ ہے کہ اس اجلاس کے دوران مظفرآباد (پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر) سے ایک ٹیلی فون کال کے ذریعے متحدہ جہاد کونسل (UJC) کے رہنماؤں کے ساتھ ہم آہنگی کی گئی۔ کہ وہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ اس عمل نے کشمیر میں ایک “مثبت ماحول” پیدا کیا۔
واضح رہے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) کے رہنما یاسین ملک کئی دہائیوں سے بھارت میں قانونی اور سیاسی تنازعات کے مرکز میں ہیں۔ ملک پر دہشت گردی کی فنڈنگ، ریاست کے خلاف سازش، اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کے متعدد مقدمات درج ہیں، جن کے تحت انہیں عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔
ملک کے حلفیہ بیانات اور عدالت میں دعوے، جن میں وہ کشمیر کے مسئلے کے پرامن حل میں اپنے کردار کا ذکر کرتے ہیں، ایک پیچیدہ سوال چھوڑ جاتے ہیں: کیا یاسین ملک محض ایک علیحدگی پسند رہنما ہیں یا وہ امن مذاکرات میں ایک غیر رسمی ثالث کا کردار بھی ادا کر رہے تھے؟
تاہم، ان دعوؤں کی تصدیق کسی بھی سرکاری یا سیاسی ادارے نے نہیں کی۔ آر ایس ایس کے رہنماؤں، ہندو مذہبی رہنماؤں اور دیگر ذکر شدہ شخصیات کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا، جس سے ان دعوؤں کی سچائی پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
یاسین ملک کے کیس سے صرف قانونی پہلو ہی نہیں بلکہ سیاسی اور اخلاقی پہلو بھی جڑے ہیں۔ ایک طرف بھارت کی عدالتیں انہیں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں میں ملوث قرار دیتی ہیں، تو دوسری طرف ملک خود کو ایک ثالث اور امن کے حامی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ تضاد کشمیر کی طویل اور پیچیدہ سیاسی جدوجہد کو اجاگر کرتا ہے اور سوال اٹھاتا ہے کہ قانونی کارروائیاں اور سیاسی مذاکرات کس حد تک ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ماہرین کا خیال ہے کہ یہ معاملہ نہ صرف یاسین ملک کی شخصیت پر بلکہ کشمیر کے مستقبل اور وہاں کے سیاسی ماحول پر بھی ایک باریک لیکن گہرا اثر ڈال رہا ہے۔

