وادی تیراہ میں مبینہ بمباری سے بچوں اور خواتین سمیت 25 ہلاکتوں پر علاقے میں احتجاج
سابق قبائلی علاقے ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں کم از کم 25 افراد، (تقریباً تمام خواتین اور بچے) کے قتل کے خلاف مقامی شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دیا ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے بھی اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت کے رہنماؤں نے پیر کو بتایا کہ فضائی حملوں میں 20 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
رُکن قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر نے ایکس پر لکھا کہ خیبر کی وادی تیراہ میں جیٹ طیاروں کی بمباری کے دوران مقامی آبادی پر بم گرنے سے پانچ گھر تباہ ہو گئے، اور مقامی ذرائع کے مطابق ملبے سے اب تک 20 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ میرے پاس اس دُکھ اور تکلیف کو بیان کرنے کو الفاظ نہیں۔ کبھی ڈرون، کبھی بمباری- نفرت کے اتنے بیج بوئے گئے کہ اگر یہ لاوا اُبل پڑا تو کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔
علاقے سے رُکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ "ضلع خیبر کے علاقے تیراہ میدان اکاخیل شدالہ مترے درہ کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی جیٹ بمباری سے بچے اور خواتین شہید ہوئے ہیں۔”
دوسری جانب وہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس جن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ سکیورٹی محکموں سے منسلک لوگوں کے ذریعے چلائے جاتے ہیں، کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں کی طرف سے ایک گھر کے اندر چھپائے گئے دھماکہ خیز مواد کے ایک بڑے ذخیرے میں دھماکہ ہوا، جس سے شہری ہلاکتیں ہوئیں۔

