انجینیئر مرزا پر مقدمہ، اسلامی نظریاتی کونسل کا سائبر کرائم ایجنسی کو جواب
پاکستان میں نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی نے جہلم سے گرفتار کیے گئے مبلغ انجنیئر محمد علی مرزا کے کیس میں اسلامی نظریاتی کونسل کو خط لکھ کر رائے طلب کی تھی۔
اس خط پر اسلامی نظریاتی کونسل کا جاری کیا گیا جواب ذیل میں پڑھیے۔
فیصلہ بابت مرزا محمد علی انجینئر كے خلاف درج ۲۹۵ ۔سی كی ایف آئی آر اور اس كے كلمات كا حكم۔
مراسلہ ازنیشنل سائبركرائم انوسٹیگیشن ایجنسی راولپنڈی
اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے ۲۴۳ویں اجلاس مورخہ۲۴ ستمبر،۲۰۲۵ کے ضمنی ایجنڈا آئٹم نمبر ۲ پر بحث کرتے ہوئے مرزا محمد علی انجینئر کے خلاف درج ایف آئی آر کے حوالے سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) راولپنڈی کے مراسلے پر غور کیا۔
شرعی اصول و ضوابط کی وضاحت اور تفصیلی غور و فکر کے بعد کونسل نے ابتدائی طور پر درج ذیل فیصلہ کیا۔
• اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ قرآن و سنت میں بھی بعض کفریہ الفاظ نقل ہوئے ہیں، مگر یہ بات ادھوری پیش کی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ان تمام مقامات کو دیکھا جائے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں ان الفاظ کو بطور ردّ، انکار اور سخت تنبیہ کے ذکر کیا گیا ہے، نہ کہ کسی تائید کے طور پر۔
• شرعی اصول یہ ہے کہ کفر کے الفاظ صرف اس وقت نقل کیے جا سکتے ہیں جب ان کا مقصد کوئی جائز دینی ضرورت ہو، مثلاً شہادت، باطل کی تردید، تعلیم یا تنبیہ وغىرہ۔ بلا ضرورت ایسے کلمات دہرانا ناجائز اور بعض صورتوں میں سخت گناہ ہے۔ خصوصاً جب معاملہ حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو تو کسی شرعی مقصد کے بغیر توہین آمیز جملے نقل کرنے کی قطعاً اجازت نہیں۔ مرزا محمد علی انجینئر کے کئی بیانات میں ایسے جملے موجود ہیں جو محض نقلِ کفر پر مشتمل ہیں مگر کسی شرعی مقصد کے بغیر کہے گئے ہیں۔ اس بنا پر ان کا یہ طرزِ عمل سخت تعزیری سزا کا مستحق ہے، اور چونکہ یہ عمل انہوں نے بارہا دہرایا ہے، اس لیے ان کا جرم مزید سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔
• مرزامحمدعلی انجینئركے ایك كلپ كےٹرانسكرپٹ میں درج ہے’’۔۔۔۔لیكن قرآ ن مجھے اجازت دے رہا ہے كہ میں اس كی عورت كے ساتھ شادی كرسكتا ہوں اگر وہ كسی christanكی بیٹی ہے سورہ مائدہ كی آیت نمبر۵۔كس عورت كےساتھ؟جومیرے نبی كودجال سمجھتی ہے۔۔۔‘‘مرزا انجنىئر كی طرف سےیہ قرآن كریم پر بھی اتہام ہے اور معنوى تحرىف بھى ہے،قرآن كریم كی محولہ بالا آیت میں ایسا كچھ نہیں ہے،حوالہ كے لئے آیت كا ترجمہ یہاں پیش كیاجاتا ہے:
(آج تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں، اور ان لوگوں کا ذبیحہ (بھی) جنہیں (اِلہامی) کتاب دی گئی تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے، اور (اسی طرح) پاک دامن مسلمان عورتیں اور ان لوگوں میں سے پاک دامن عورتیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی (تمہارے لئے حلال ہیں) جب کہ تم انہیں ان کے مَہر ادا کر دو، (مگر شرط) یہ کہ تم (انہیں) قیدِ نکاح میں لانے والے (عفت شعار) بنو نہ کہ (محض ہوس رانی کی خاطر) اِعلانیہ بدکاری کرنے والے اور نہ خفیہ آشنائی کرنے والے، اور جو شخص (اَحکامِ الٰہی پر) ایمان (لانے) سے انکار کرے تو اس کا سارا عمل برباد ہوگیا اور وہ آخرت میں (بھی) نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔)
محولہ بالا آیت کے حوالے سے اس كے بىان كى خط كشىدہ عبارت اس كے ذاتى الفاظ ہىں جو اس آیت میں کہیں موجود نہیں ہىں، اس لیے مرزا انجینئر کا یہ بیان قرآن کی توہین اور معنوى تحریف کے زمرے میں بھی آتا ہے اور توہىن رسالت كو بھى مستلزم ہے ۔ لہٰذا اس پر عائد دفعات میں توہینِ قرآن کی دفعہ بھی شامل کی جائے۔
• كونسل نے ملاحظہ كیا كہ نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) كےآفیسرکی طرف سے دفترِ کونسل کو بھیجا گیا مراسلہ جانب داری کا تاثر دیتا ہے، کیونکہ مدعى كى کی طرف سے اپنے موقف كے حق مىں جمع کىا گىا تحریری مواد اور فتاویٰ اس کے ساتھ نہیں لگائے گئے۔ جبكہ صرف مرزا انجنىئر كے حق مىں دئىے گئے فتاوىٰ مہىا كىے گئے ہىں۔ كسى بھى طرح كسى تفتىشى ادارے كو كسى ملزم ىا مدعى كا ىكطرفہ موقف رائے حاصل كرنے كے لىے پىش نہىں كرنا چاہىے۔
• مرزا انجنىئر كا ىہ بىان فساد فى الارض كو پھىلانے كا باعث ہے۔ اسى لىے پاکستان کی مسىحى برادری کو ایک مراسلہ بھیجا جائے گا کہ وہ تحریری طور پر واضح کریں کہ مرزا محمد علی انجینئر نے شانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو الفاظ کہے ہیں، کیا ان كى مقدس كتابوں مىں اور اجتماعى طور پر ان كى ىہ رائے ہے كہ نہىں ؟ ان کے جواب کے بعد ہی تفصیلی فیصلہ مرتب کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران عیسائی برادری کے فادر جے ایم چنن کا وائس میسج سنایا گیا، جس میں انہوں نے اس بات کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ ایسا کوئی لفظ ہمارے ہاں موجود نہیں اور اسى طرح پاكستان مىں اہم ترىن مسىحى قائدىن بھى اس بات كو اپنے اوپر تہمت قرار دىتے ہىں۔

