پاکستان

ٹیکس کے لیے پیدوار کی نشاندہی، پاکستان میں چار چینی کمپنیوں کا نگرانی کیمرے لگانے سے انکار

نومبر 20, 2025

ٹیکس کے لیے پیدوار کی نشاندہی، پاکستان میں چار چینی کمپنیوں کا نگرانی کیمرے لگانے سے انکار

پاکستان میں ٹیکس اتھارٹی کے سربراہ (چیئرمین ایف بی آر) نے چینی کمپنیوں کو متنبہ کیا کہ وہ یا تو اپنی پیداوار کو مکمل طور پر ظاہر کریں یا پھر آپریشن بند کر دیں۔

یہ وارننگ اٗس وقت دی گئی جب چار کمپنیوں کے نمائندے نے پاکستان پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کو بتایا کہ ان کی انتظامیہ مانیٹرنگ کیمروں کی تنصیب کی اجازت نہیں دے رہی۔

حکومت نے ٹائل مینوفیکچررز (کمپنیوں) کی طرف سے پیداوار کو کم بتا کر کے سالانہ ٹیکس چوری میں 30 ارب روپے کا تخمینہ لگایا ہے۔

قائمہ کمیٹی میں ایف بی آر کے چیئرمین راشد لنگڑیال نے کہا کہ حکومت نے تمام سیرامک فیکٹریوں میں پیداوار کی نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، چاہے وہ مقامی ہوں یا غیر ملکی۔
چینی انتظامیہ سمیت چار چینی کمپنیوں کے نمائندے کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور سینیٹرز پر زور دیا کہ وہ ایف بی آر کو کیمرے لگانے سے روکیں۔

اجلاس کی صدارت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کی۔

کمپنیوں نے استدلال کیا کہ ان کی پیداوار پر اس نگرانی سے تجارتی راز کمپرومائز ہوں گے۔

اس دعوے کو راشد لنگریال نے سختی سے مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے پہلے ہی چینی سرمایہ کاروں کے لیے فی فیکٹری کیمروں کی تعداد 16 سے کم کر کے پانچ کر دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈیوائسز صرف وہاں لگائی جائیں گی جہاں پروڈکشن آؤٹ پٹ کو درست طریقے سے مانیٹر کیا جا سکے۔

پاکستان کو ٹیکس نیٹ میں باضابطہ طور پر رجسٹرڈ فرموں سمیت بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کا سامنا ہے۔

اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے حکومت نے 18 شعبوں میں مانیٹرنگ کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

چینی کمپنیوں کے مقامی نمائندے نے کمیٹی کو بتایا کہ ان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے پروڈکشن لائنز پر کیمرے لگانے سے انکار کر دیا ہے۔

انہوں نے کاروباری راز سامنے آنے کے بارے میں اپنے تحفظات سے دوبارہ آگاہ کیا۔

چیئرمین راشد لنگڑیال نے جواب دیا کہ کیمرہ پلیسمنٹ اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ صرف پروڈکشن گنتی ہی کیپچر کی جائے گی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے