ہانگ کانگ کی رہائشی عمارتوں میں 44 ہلاک اور 250 لاپتہ، آگ کیسے لگی؟
ہانگ کانگ کی رہائشی عمارتوں میں آتشزدگی سے 44 افراد ہلاک اور 250 تاحال لاپتہ ہیں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ اُن کو جان بچانے کا موقع نہیں ملا۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق آگ کیسے لگی اس کی جانچ جاری ہے اور اس دوران حکام نے کنسٹرکشن کمپنی کے تین اہلکاروں کو حراست میں لیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق یہ آگ بدھ کی دوپہر کو لگی جس نے چین کے مالیاتی مرکز کو ہلا کر رکھ دیا، جہاں دنیا کے سب سے زیادہ گنجان آباد اور بلند رہائشی بلاکس موجود ہیں۔
آگ سب سے پہلے وانگ فوک کورٹ کے کئی اپارٹمنٹ بلاکس پر لگے بانسوں پر بھڑکی، جہاں آٹھ ٹاورز میں قریباً دو ہزار فلیٹس ہیں اور اطلاعات کے مطابق اُس وقت وہاں مرمت کا کام جاری تھا۔
ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹیو جان لی نے ہلاکتوں کی تعداد 36 بتائی اور کہا کہ 279 افراد لاپتا ہیں۔29 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے سات کی حالت تشویش ناک ہے۔
اے ایف پی کے ایک رپورٹر نے ٹوٹنے کی آوازیں سنیں جو ممکنہ طور پر جلتے بانس سے آرہی تھیں، اور عمارتوں سے اٹھتے دھوئیں کے گہرے بادل دیکھے، جبکہ شعلے اور راکھ آسمان کی طرف بلند ہو رہے تھے۔
65 سال کے رہائشی، جن کا نام یُوین بتایا گیا، نے بتایا کہ وہ اس علاقے میں چار دہائیوں سے رہ رہے ہیں اور ان کے کئی پڑوسی بزرگ ہیں جو نقل و حرکت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔
یُوین نے مزید کہا کہ ’کھڑکیاں مرمت کی وجہ سے بند تھیں، (کچھ افراد) نہیں جانتے تھے کہ آگ لگی ہے اور انہیں پڑوسیوں نے فون کالز کے ذریعے انخلا کا بتایا۔‘
’میں تباہ ہو گیا ہوں۔ جائیداد کا نقصان ہوا ہے، جانوں کا نقصان ہوا ہے، حتیٰ کہ ایک فائر فائٹر بھی جان سے گیا۔‘

