پاکستان

اگر پٹواری کام کرتے تو پراپرٹی کا مسئلہ ہی نہ بنتا: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

دسمبر 26, 2025

اگر پٹواری کام کرتے تو پراپرٹی کا مسئلہ ہی نہ بنتا: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے معطل کیے گئے قانون کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عدالتی حکم کے بعد کسی نے پراپرٹی کے قبضے دلوائے تو نتائج کے لیے تیار رہے۔

جمعے کو لاہور ہائیکورٹ میں ’پراپرٹی اونرشپ ایکٹ‘ کے تحت کارروائیوں کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ اس دوران محمد اسلم سمیت دس شہریوں کی شکایات اور درخواستیں بھی سُنیں گئیں جن پر معطل قانون کے تحت عمل کرایا گیا تھا۔

پراپرٹی اونرشپ ایکٹ کے تحت قبضہ حاصل کرنے والا ایک شہری بھی عدالت پہنچا۔ عدالت نے ڈی آر سی کمیٹی کے ذریعے قبضہ حاصل کرنے والے شہری کو فوری قبضہ واپس کرنے کا حکم دے دیا۔

ایک موقع پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے قبضہ حاصل کرنے والے شہری کے وکیل سے پوچھا کہ آپ قانون اور عدالتی حکم سمجھتے ہوئے بھی غلط کام کا کیسے دفاع کرسکتے ہیں؟
وکیل نے کہا کہ ’ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں بنی کمیٹیوں نے اختیارات سے تجاوز کیا۔‘

چیف جسٹس نے اُن سے کہا کہ ’آپ پہلے قبضہ واپس کریں پھر آگے بات کریں گے، کیوں نہ اس کمیٹی کے ممبران کے خلاف کارروائی شروع کریں۔ وکیل خود تسلیم کر رہا ہے کہ ڈی سی نے اختیارات سے تجاوز کیا۔‘
چیف جسٹس عالیہ نیلم کا کہنا تھا کہ اگر پٹواری ٹائم سے کام کرتا تو یہ معاملہ آتا ہی نہیں نہیں۔ ’جب سسٹم کو بائی پاس کریں گے تو پھر ایسے ہوگا۔‘
وکیل نے کہا کہ جب سسٹم سے انصاف نہیں ملے گا تو کہاں جائیں؟ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ اخبار میں ہیڈلائنز لگانے کے لیے یہاں ڈائیلاگ نہ ماریں۔
وکیل نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ یہاں (عدالتوں میں) کیسز کے فیصلے نہیں ہوتے۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے جوابا کہا کہ ’آپ جذباتی باتیں نہ کریں، مجھے پتہ یہاں کتنے پرانے کیسز ہیں۔‘

ایک وکیل نے بتایا کہ دیپالپور میں 40ایکڑ پراپرٹی پر مخالفین قابض ہیں۔ مخالف فریق کے ایک وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈی آر سی کمیٹیوں نے 27 دنوں میں ہمیں قبضہ دلایا۔
چیف جسٹس نے وکیل سے پوچھا کہ یہ آرڈر پاس کس نے کرنا تھا، کمیٹی کا قبضے کا آرڈر مس کنڈکنٹ ہے۔
وکیل نے کہا کہ ’میں یہ مانتا ہوں کہ ڈی سی نے غلط فیصلہ دیا۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ ’آپ خود کہتے ہیں کہ ان کے پاس قانون کے تحت کارروائیوں کا اختیار نہیں تھا۔

درخواست گزار کے وکیل نے استدعا ’ہمیں سُنے بغیر ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) نے پراپرٹی/جائیداد کا فیصلہ کر دیا۔ عدالت اُن کو حکم دے کہ وہ ہمارا مؤقف بھی سُن لیں۔‘
چیف جسٹس عالیہ نیلم کا جواب ’میرا سامنے یہ معاملہ ہی نہیں کہ پراپرٹی کا مالک کون ہے، یہ میرا اختیار ہی نہیں کہ اس بات کا فیصلہ کروں کہ آپ پراپرٹی کے مالک ہیں یا نہیں۔ اسی طرح یہ عدالت ڈی سی کو بھی نہیں جاری نہیں کر سکتی۔ ہمارے سامنے قانونی نکتہ یہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر کے پاس جائیداد کے مالکانہ حقوق کے اس طرح فیصلے کرنے کے اختیارات ہیں یا نہیں۔ یہ عدالت اس کا فیصلہ کرے گی۔‘
لاہور ہائیکورٹ نے درخواست فُل بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کر دی۔

ایک درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ آرڈینس معطل ہونے کے بعد 24 دسمبر کو گوجرانولہ میں ایک ایکڑ پراپرٹی کا قبضہ دے دیا گیا۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ اگر عدالتی حکم کے بعد کسی نے قبضے دلوائے تو نتائج کےلیے تیار رہے۔

عدالت نے ڈی آر سی کمیٹی کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے درخواست مزید سماعت کے لیے فل بینچ کو بھجوا دی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے