شکار کے لیے آئے اماراتی صدر کا دورۂ اسلام آباد، ایئربیس سے باہر کیوں نہ نکلے؟
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے دورۂ پاکستان کو شروع ہونے سے پہلے اسلام آباد میں حکومت اور میڈیا نے اہم بنا کر پیش کیا مگر بعد ازاں نہایت احتیاط سے ”پلے ڈاؤن“ کرنے کی کوشش کی۔
صدر النہیان کی اسلام آباد آمد سے ایک دن قبل تک پاکستان کے لڑاکا طیارے شہر میں فلائی پاسٹ کی مشق کرتے رہے جو معزز مہمان کو ایوانِ صدر یا وزیراعظم ہاؤس آمد پر پیش کیا جانا تھا۔
وفاقی دارالحکومت کی شاہراؤں پر خیرمقدمی بینرز لگائے گئے، شہر کی صفائی کرائی گئی، سکیورٹی کے غیرمعمولی اقدامات جاری تھے اور اسلام آباد میں ایک دن کی سرکاری تعطیل بھی دی گئی۔
جمعے کو دن گیارہ بجے کا وقت اماراتی صدر کے جہاز کے اسلام آباد پہنچنے کے لیے مقرر تھا۔
طیارہ مقرر وقت پر دارالحکومت کی فضائی حدود میں داخل ہوا اور نور خان ایئربیس پر لینڈ کر گیا، اس کی ویڈیوز بھی آ گئیں مگر یہ کیا سرکاری میڈیا پر مکمل خاموشی؟
پاکستان کے سکیورٹی ذرائع سے منسلک ایک خاتون رپورٹر نے نجی نیوز چینل پر معزز مہمان کی آمد کو رپورٹ بھی کر دیا مگر اس کے بعد بھی خاموشی چھائی رہی۔
اس خاموشی کے دوران نیم سرکاری انگریزی نیوز چینل سے منسلک ایک رپورٹر نے ایکس پر لکھا کہ اماراتی صدر کے پہنچنے کی خبر درست نہیں، وہ تاحال نہیں پہنچنے۔
مہمان کے پہنچنے کے تین گھنٹے بعد تک میڈیا سے وابستہ افراد اور سرکاری ٹیلی ویژن پر حکام بھی مخصمے کا شکار تھے۔
اس کی ایک ہی وجہ تھی کہ اماراتی صدر نے ایئربیس پر ہی سرکاری ملاقاتیں نمٹانے کا کہہ دیا تھا۔ اسلام آباد میں اعلٰی حکام پر یہ خبر بجلی بن کر گری تھی۔
شیخ النہیان کے استقبال کے لیے سجایا گیا شہر اُن کی راہ دیکھ رہا تھا، شاہراہ دستور پر ڈھول باجے لیے کلچرل شو پیش کرنے کے منتظر سازندے اور رقاص کھڑے کھڑے تھک گئے مگر مہمان نے وزیراعظم ہاؤس آنا تھا نہ آئے۔
گیارہ بجے پہنچنے والے معزز مہمان تین بجے نور خان ایئربیس پر سے ہی اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں نمٹانے کے بعد اُڑان بھر چکے۔
چار گھنٹے کے اس سرکاری دورے سے پاکستانی حکومت کو بڑی ہزیمت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جس میں قسم کسی کا کوئی اعلان تک نہ کیا گیا۔
اب سنیچر کو پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کر لی ہے کہ اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے وزیراعظم اور آرمی چیف کی نور خان ایئربیس پر ملاقات ہوئی۔
وزیر خارجہ کے مطابق اس کے بعد وہ یہاں سے رحیم یار خان اپنے ذاتی دورے پر شکار کے لیے تشریف لے گئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ اماراتی صدر کو دیر ہو رہی تھی اور انہوں نے شکار والے علاقے میں لینڈ کرنا تھا.
دونوں ملکوں کے حکام تاحال یہ نہیں بتا رہے کہ معزز مہمان کے پاس وقت کی قلت تھی اور اُن کو شکار کی جلدی تھی تو کیا وہ رحیم یار خان کے بجائے اسلام آباد میں ایک رات قیام کس وجہ سے نہیں کر ریے تھے.

