ایمان مزاری و ہادی علی کے خلاف اسلام آباد پولیس 6 ماہ تک خُفیہ رکھا مقدمہ لے آئی
پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم وکلا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف دہشت گردی کے الزامات کے تحت درج 6 ماہ تک خُفیہ رکھا مقدمہ اسلام آباد پولیس سامنے لے آئی ہے۔
مقدمہ 26 جولائی 2025 کو اسلام آباد کے تھانہ شالیمار میں پریس کلب کے باہر بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کا ساتھ دینے پر درج کیا گیا تھا۔
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ دونوں وکلا نے دہشت گردوں کے لواحقین کا احتجاج میں ساتھ دیا۔ اور ایمان مزاری ڈنڈے جبکہ ہادی علی چٹھہ کے پاس پسٹل تھا۔
یہ ایف آئی آر ایک ایسے وقت سامنے لائی گئی جب دونوں وکلا اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹویٹس کیس میں ضمانت کے لیے پیش ہوئے تھے۔
ایمان مزاری نے ایف آئی آر سامنے آنے کے بعد ایکس پر لکھا ہے کہ:
”آج ہم ہائیکورٹ میں داخل ہو رہے تھے تو ہمیں معلوم تھا کہ یہ ایک جال ہے جس میں پھنس رہے ہیں لیکن اس شخص کے برعکس جس نے خود کو تاحیات استثنیٰ دیا ہے، ہم عدالتوں سے نہیں بھاگتے، حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ جعلی مقدمات ہیں۔ ہم نے صرف اتنا مطالبہ کیا ہے کہ ہمارے منصفانہ ٹرائل کے حق کا تحفظ کیا جائے۔ اب جبکہ استغاثہ کا مقدمہ (ٹویٹس کیس) جل کر خاکستر ہو چکا ہے، چھوٹے لڑکے ہمیں ہر صورت جیل میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ اچانک 6 ماہ قبل کی ایک فرضی اور من گھڑت ایف آئی آر سامنے آئی ہے۔ مزید بھی منظر عام پر آئے گا۔ چھوٹے چھوٹے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمیں جیل میں ڈال کر وہ لوگوں کے منہ بند کر سکتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ جو لوگ خود کو تاحیات استثنیٰ دیتے ہیں وہی جیل سے ڈرتے ہیں۔ اُن کو ہی سب سے زیادہ خوف ہے۔“
انہوں ٹویٹ کے آخر میں نعرہ لکھا کہ
گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو ۔
تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے ایکس پر تبصرہ کیا کہ:
”ایف آئی آر کا متن دیکھیے انتہائی مضحکہ خیز۔ ہادی نے پریس کلب کے باہر پسٹل سے فائرنگ کر دی۔ اور آج تک کسی کو پتہ ہی نہیں چلا ؟ ایمان نے ڈنڈا لے کر گاڑیوں کے شیشے توڑ ڈالے اور دو چار خواتین پولیس کانسٹیبلز کو بھی نیچے گرا لیا۔ اور یہ سُپر وومن کا کردار ادا کرتے ہوئے کوئی فوٹیج ہی نہیں بنی؟ وہ بھی کیمروں کی آماجگاہ پریس کلب کے باہر؟“

