ایمان مزاری اور ہادی علی کی مزید دو مقدمات میں ضمانتیں منظور
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت
نے ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کی مزید دو مقدمات میں ضمانتیں منظور کر لی ہیں۔
جمعے کو انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کی۔
ایمان مزاری اور ہادی علی کی جانب سے وکلا نے دلائل دیے۔
ایک کیس ہائیکورٹ کے باہر لڑائی جھگڑے کا ہے جبکہ دوسرا پریس کلب کے باہر احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں پر حملے کے الزام کا ہے۔
ہائیکورٹ کے باہر لڑائی جھگڑے کیس میں گزشتہ روز مقدمے کے مدعی صدر ہائیکورٹ بار واجد گیلانی نے بیان حلفی جمع کرایا تھا کہ دونوں وکلا اُن کے ملزمان نہیں اس لیے ضمانت اور مقدمے سے اُن کے ناموں کے اخراج پر اعتراض نہیں۔
عدالت نے پانچ، پانچ ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض دونوں مقدمات میں ضمانت منظور کی۔
دونوں وکلا ٹویٹس کیس میں 17 برس قید کی سزا ہونے پر اڈیالہ جیل میں ہیں۔
سزا کے خلاف ایمان مزاری اور ہادی علی کی اپیلیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرِ التوا ہیں۔
ٹویٹس کیس میں سزا معطلی کے لیے دائر درخواستیں تاحال اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت کے لیے مقرر نہیں کی گئیں۔

