لاپتہ کیے جانے کے بعد نئے مقدمے میں گرفتاری، علی وزیر سندھ کی دادو جیل منتقل
پاکستان میں سابق رکن قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما علی وزیر کو سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز کی انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) میں پیش کیا گیا۔
تین روز قبل ضلع سکھر میں دوبارہ گرفتاری کے بعد لاپتہ کیے جانے کے دو دن بعد ان کے وکیل امداد حیدر سولنگی نے علی وزیر کو عدالت میں پیش کیے جانے کی تصدیق کی۔
بعد ازاں عدالت نے علی وزیر کو جوڈیشل ریمانڈ پر دادو کی ڈسٹرکٹ جیل منتقل کرنے کا حکم دیا۔
علی وزیر کے خلاف سندھ پولیس نے ضلع دادو میں ایف آئی آر کرائی ہے۔
مدعی اے ایس آئی نظر علی لغاری، تھانہ اے سیکشن دادو، بیان کے مطابق 16/03/2026 کو معمول کی چیکنگ کے دوران انہیں ایک مخبر سے اطلاع ملی کہ کچھ افراد پی ٹی ایم کے جھنڈے اور اسلحہ لے کر جا رہے ہیں۔ ان افراد نے سڑک بلاک کر رکھی تھی اور پاکستان اور پاک فوج کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ وہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ ان کے لیڈر علی وزیر نے انہیں ہدایات دی ہیں کہ ملک بھر میں سڑکیں بلاک کریں اور ایسا خوف و ہراس پھیلائیں کہ ان کی رہائی کے بعد حکومت انہیں دوبارہ گرفتار نہ کر سکے۔
مدعی کے مطابق ان افراد نے عوام میں خوف و ہراس پھیلایا اور بدامنی پیدا کی۔ جب پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو ملزمان نے پولیس اور عوام پر فائرنگ شروع کر دی، جس کے بعد وہ موقع سے فرار ہو گئے۔

