پاکستان24 متفرق خبریں

یہ ہمارے ہیرے ہیں، چیف جسٹس

جنوری 16, 2019

یہ ہمارے ہیرے ہیں، چیف جسٹس

چیف جسٹس ثاقب نثار نے پاکپتن دربار اراضی جے آئی ٹی رپورٹ میں نواز شریف کو زمین منتقلی کا ذمہ دار قرار دینے والے افسر حسین اصغر کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہمارے ہیرے ہیں ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق پی کے ایل آئی اسپتال انتظامیہ کے سروس سٹرکچر کیس میں ایک ٹھیکیدار کے وکیل نعیم بخاری نے بتایا کہ ٹھیکیدار اپنے 1.2 ارب روپے واپس لینا چاہتا ہے، نعیم بخاری نے کہا کہ میرے موکل کو حیرانی ہے کہ کیسے ٹھیکے کو زائد نرخ قرار دیا گیا ۔

نعیم بخاری نے کہا کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اس پراجیکٹ کو مکمل کرنے دیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے پوچھا کہ اس کی تکمیل میں تو کوئی امر مانع نہیں، کیا آپ نے اینٹی کرپشن کی رپورٹ پر جواب جمع کروادیا ہے ۔ جواب ملا کہ جی جمع کروادیا ہے ۔

یہ رپورٹ بورڈ چیرمین اقبال حمید الرحمان کو بھیج دیں، اعتزاز احسن وکیل مجاہد شیر دل

اینٹی کرپشن اگر پرچے بنتے پیں تو درج کرے، چیف جسٹس

یہ ساری رپورٹ غلط معلومات پر تیار کی گئی، اعتزاز احسن

یہ تو سب عدالت نے تعین کرنا ہے، چیف جسٹس

پرچے سے کام رک جائے گا، نعیم بخاری وکیل ٹھکیدار

کوئی کام نہیں رکے گا، چیف جسٹس

اعتزاز صاحب میں پی کے ایل آئی گیا ہوں وہاں کام کا معیار بہت کم ہے، کوئی کام سٹیٹ آف دی آرٹ نہیں ہوا جس کے نعرے لگائے گئے، 22 ارب خرچ ہو گئے یہ کم رقم نہیں، اتنی کوشش کے بعد ڈیم فنڈ کے لیئے 9 ارب جمع ہوئے ہیں، چیف جسٹس

منصوبے کے آرکیٹکٹ پر الزام لگا کہ ہزار بیڈ کا ہسپتال تھا 400 بیڈ بنا رہے ہیں، سلمان اکرم راجہ وکیل آرکیٹکٹ

ہسپتال ہم نے تو نہیں حکومت نے بنانا ہے، سلمان اکرم راجہ

اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی جے آئی ٹی رپورٹ صرف ابتدائی رپورٹ ہے، ابھی تفتیش ہونی ہے ٹرائل ہونا ہے، جسٹس اعجازالاحسن

اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے ڈائیریکٹر حسین اصغر عدالت میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے پوچھا کہ حسین اصغر صاحب اس معاملے پر آپ نے کیا کرنا ہے ۔

جن لوگوں کے نام آئے ہیں ان کا موقف لیں گے، حسین اصغر

مجھے اپنے افسروں پر پورا اعتبار ہے، پاکپتن کیس میں اینٹی کرپشن نے رپورٹ دی ہے، یہ ہمارے ہیرے ہیں، چیف جسٹس

ڈی جی اینٹی کرپشن جے آئی ٹی کی روشنی میں ٹھیکیداروں اور دیگر حکام کے جوابات کا جائزہ لیں، دو ہفتوں میں رپورٹ پیش کریں، عدالت

سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے