ذیشان دہشت گرد تھا یا غریب
ساہیوال میں خفیہ ایجنسی کے کارندوں کی گولیوں کا نشانہ بننے والے بدقسمت خاندان کے ساتھ بطور ڈرائیور مارے جانے والے ذیشان جاوید کے بارے میں جے آئی ٹی رپورٹ آنے سے قبل ہی پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نے اسے دہشت گرد قرار دیا تھا تاہم تاحال انہوں نے وہ ذرائع ظاہر نہیں کئے جن کی رپورٹ پر وزیر قانون نے پریس کانفرنس میں اتنا بڑا دعوی کیا تھا ۔
دوسری جانب تحریک انصاف کی لاہور سے مخصوص نشستوں پر قومی اسمبلی کی رکن عندلیب عباس نے وزیر قانون کے بیان کی مذمت کی ہے ۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے عندلیب عباس کا کہنا تھا کہ میں ذیشان کی والدہ کو جانتی ہوں، میں شرمندہ ہوں، میں ذاتی طور پر اور اپنی پارٹی کی جانب سے ان سے معافی مانگتی ہوں، وزیر قانون کے ذیشان کو دہشتگرد قرار دینے کے بیان کی مذمت کرتی ہوں ۔
ذیشان جاوید کے بھائی احتشام جاوید نے واقعہ کی شام نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ خود پنجاب کی ڈولفن فورس میں سپاہی ہے ۔ احتشام نے بتایا کہ ذیشان اس کا بڑا بھائی تھا جو ٹیکسی چلا کر گزر بسر کرتا تھا جس کو ظالمو نے قتل کر دیا اور اب اسے دہشت گرد بھی قرار دے رہے ہیں ۔
احتشام جاوید نے سوال اٹھایا تھا کہ اگر اس کا بھائی دہشت گرد تھا تو پولیس میں بھرتی کے وقت اس کے پورے خاندان کی کلیئرنس کرتے وقت یہ بات کیوں نہ بتائی گئی؟ ۔
ڈرائیونگ سیٹ پر سی ٹی ڈی اور آئی ایس آئی کے اہلکاروں کی گولیوں سے چھلنی ہونے والے ذیشان کے والد سیالکوٹ سے تعلق رکھتے تھے جبکہ وہ اپنی ماں کے ساتھ لاہور کے علاقے چونگی امر سدھو کا رہائشی تھا ۔ ذیشان جاوید کی والدہ شوہر سے علیحدگی کے بعد اپنے دو بیٹوں کے ہمراہ واپس اپنے آبائی گھر آ گئی تھیں اور مشترکہ فیملی میں رہائش پذیر رہیں ۔

