پاکستان پاکستان24

شہباز شریف کی ضمانت کا فیصلہ طلب

فروری 27, 2019

شہباز شریف کی ضمانت کا فیصلہ طلب

سپریم کورٹ نے آشیانہ ہائوسنگ اسکینڈل کے ملزمان بلال قدوائی اور امتیاز حیدر کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے نیب کو ہائیکورٹ سے ضمانت حاصل کرنے والے دیگر ملزمان (شہباز شریف) کے فیصلوں کی نقول جمع کرانے کی ہدایت کی ہے ۔

جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بنچ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے درخواست گزار ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس ریفرنس میں مرکزی ملزمان کی ضمانت ہوچکی ہے اس لیے ہمیں بھی ضمانت پر رہائی کا حق ہے ۔


جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ضمانت کا معیار کیا ہوگا سپریم کورٹ واضح کر چکی ہے ۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ہائی کورٹ کو ضمانت کیلئے غیر معمولی اختیارات استعمال کرنا پڑے ہیں ۔


جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ غیر معمولی اختیار غیر معمولی حالات میں ہی استعمال ہو سکتا ہے ۔ مقدمے میں نیب کے تفتیشی افسر نے بتایا کہ ٹھیکہ لینے کیلئے پیراگون کمپنی نے فرنٹ کمپنی بسم اللہ انجینیئرنگ کا استعمال کیا گیا ۔

تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ٹھیکہ لینے کیلئے احد چیمہ اور اس کے خاندان کو سو کنال زمین دی گئی، زمین خریدنے کیلئے رقم پیراگون سے بسم اللہ کمپنی کو رقم منتقل ہوئی ۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ احد چیمہ اور فیملی کیلئے زمین کی ادائیگی بسم اللہ کمپنی نے کی ۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ یہ وقت بھی آنا تھا کہ ایسی ادائیگیاں بنکوں کے ذریعے ہوں گی ۔


نیب کے تفتیشی افسر نے کہا کہ 2017 میں ٹھیکہ منسوخ کیا گیا جس سے قومی خزانے کو 20 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ وقت پر پکڑے گئے ورنہ پتہ نہیں کیا کیا ہوجاتا، کوئی گڑبڑ نہ ہوتی تو سو کنال زمین نہ دینا پڑتی ۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ اس ریفرنس میں شہباز شریف، فواد حسن فواد اور احد چیمہ مرکزی ملزم ہیں ۔


عدالت نے ضمانت پر رہا ہونے والے ملزمان کے فیصلوں کی نقول طلب کرتے ہوئے سماعت 13 مارچ تک ملتوی کر دی ہے ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے