کیا عمران خان اٹھارویں ترمیم کا شکار کریں گے؟
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے اس بیان پر کہ ’اٹھارویں ترمیم سے وفاق دیوالیہ ہو گیا ہے‘ سوشل میڈیا پر صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے یہ سوال پوچھنا شروع کیا ہے کہ ’کیا تحریک انصاف کو اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کے لیے حکومت میں لایا گیا ہے؟ اور کیا عمران خان یہ کام کر پائیں گے؟‘
وزیراعظم نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا ہے کہ ’یہ شہر پاکستان کا معاشی حب ہے، سب سے زیادہ گیس سندھ سے نکلتی ہے۔‘
تاہم وزیراعظم نے سندھ حکومت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’10 سال میں سندھ کو 237 ارب روپے گیس رائلٹی کی مد میں ملے اس میں سے گھوٹکی کوکتنا ملا۔‘
عمران خان نے کہا کہ گھوٹکی میں گیس کے ڈھائی سوکنویں ہیں، سندھ کی 70 فیصد گیس یہاں سے ملتی ہے جب کہ سندھ میں پہلے شکار کرنے آیا کرتا تھا لیکن اب سیاست میں میرا شکارتبدیل ہوگیا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد وفاق دیوالیہ ہوگیا ہے، اخراجات کے بعد وفاق 700 ارب روپے خسارے میں چلا جاتا ہے اور کرپشن کا پیسا جعلی اکاؤنٹس میں جاتا ہے، جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کرکے پیسا بیرون ملک بھجوایا جاتا ہے، سندھ کی سیاسی خاتون کے دبئی میں پانچ گھرنکلے ہیں لیکن آج ڈرامہ ہورہا ہے کہ جمہوریت خطرے میں ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ احتساب ہورہا ہے تو ڈرامہ کیا جارہا ہے کہ جمہوریت خطرے میں پڑگئی، اور اپنی چوری بچانے کے لیے ٹرین مارچ کیا گیا، لوگوں کو 2،2 ہزارروپے کا کہہ کرٹرین مارچ میں بلایا گیا لیکن اس میں 200 روپے دے کرغریبوں کے ساتھ بھی دھوکا کیا گیا جب کہ چوری بچانے کے لیے نوازشریف اورزرداری اکٹھے ہوگئے ہیں، زرداری اور نوازشریف چاہے اکٹھے ہوجائیں پھر بھی انہیں نہیں چھوڑیں گے تاہم نوازشریف اور آصف زرداری قوم کا پیسہ واپس کریں ہم انہیں چھوڑ دیں گے۔

