سندھ حکومت اور رینجرز کا پھر تنازع
پاکستان میں صوبہ سندھ کی حکومت نے کہا ہے کہ پڑوسی ملک انڈیا سے کشیدگی کے بعد صوبے کی اندرونی سکیورٹی پر تعینات رینجرز اہلکاروں کو سرحد پر بھیج دیا گیا ہے اور اب پولیس کو ان مقامات پر تعینات کیا گیا ہے تاہم سندھ رینجرز نے ایک اعلامیہ جاری کرکے صوبائی حکومت کے دعوے کو جھٹلایا ہے ۔
خیال رہے کہ صوبہ سندھ میں رینجرز کی آمد لسانی فسادات کے بعد وفاقی حکومت کے احکامات پر ہوئی تھی ۔
اس وقت سندھ میں رینجرز کے 20 ہزار اہلکار تعینات ہیں جن میں سے 12 ہزار صرف کراچی شہر میں فرائض انجام دیتے ہیں ۔
صوبہ سندھ کے محکمہ داخلہ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا کے سرحد پر کشیدگی کے بعد سندھ رینجرز کی جانب سے محکمہ داخلہ کو ایک خط لکھ کر آگاہ کیا گیا کہ رینجرز کے آپریشنل فرائض ختم کیے جارہے ہیں جس کے بعد غیر ملکی سفارتخانوں، اہم ملکی تعنصیبات پر اب پولیس تعینات کردی گئی ہے۔
ادھر رینجرز نے اپنے اعلامیے میں دعوی کیا ہے کہ سندھ میں پاکستان رینجرز کے دستے کراچی اور اندرون سندھ میں بدستور اہم تنصیبات، غیر ملکی سفارتخانوں سمیت دیگر اہم علاقوں میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ ماضی میں بھی سندھ حکومت اور رینجرز کے درمیان تعیناتی اور اختیارات پر تنازعات رہے ہیں جب وفاق میں ن لیگ کی حکومت تھی اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت رینجرز سندھ میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو گرفتار کر کے تفتیش کر رہی تھی ۔

