جسٹس فائز کے لیے ایک اور درخواست دائر
صدارتی ریفرنس کا سامنا کرنے والے پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کو انصاف دلانے کے لیے سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی عدالت عظمی میں درخواست دائر کی ہے۔
صدارتی ریفرنس کے خلاف آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کرتے ہوئے بار ایسوسی ایشن نے استدعا کی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت ریفرنس کو کالعدم قرار دیا جائے۔
خیال رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنے خلاف ریفرنس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے جبکہ پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور عابد حسن منٹو سمیت سینیئر وکلا نے بھی صدارتی ریفرنس کے خلاف عدالت عظمی سے رجوع کیا ہے۔
بدھ کو دائر کی گئی درخواست میں سندھ بار نے استدعا کی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو صدارتی ریفرنس پر مزید کاروائی سے فوری طور پر روکا جائے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے انکوائری کے طریقہ کار میں ترمیم کی جائے۔ ”جھوٹا اور بے بنیاد ریفرنس دائر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جائے۔“
درخواست میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف دائر صدارتی ریفرنس قانونی نگاہ سے بدنیتی پر مبنی ہے۔
”کیا حکومتی اداروں کی جانب سے سپریم کورٹ کے ججز یا ان کے خاندان کی معلومات بغیر اجازت اور خفیہ اداروں کے ذریعے اکٹھی کی جا سکتی ہیں۔“
درخواست میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا ایسٹ ریکوری یونٹ کا چیئرمین خفیہ حاصل کی گئی معلومات دوسرے اداروں کے ساتھ شیئر کر سکتا ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ اگر خاندان کا کوئی فرد جائیداد ظاہر نہ کرے تو کیا اس خاندان کے دوسرے افراد کی جائیداد بھی بےنامی دار شمار ہوگی۔
درخواست کے مطابق فیض آباد دھرنا کیس میں نظر ثانی درخواستوں میں قاضی فائز عیسی کے خلاف سخت زبان استعمال کر کے بعد میں واپس لی گئی۔
فیض آباد دھرنا کیس نظر ثانی درخواستوں سے حکومت کی قاضی فائز عیسی کے خلاف تعصب اور بدنیتی ثابت ہوتی ہے۔ صدارتی ریفرنس عدلیہ کی آزادی کے خلاف سازش ہے۔
یاد رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے جسٹس قاضی فائز کے خلاف 30 مئی کو سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس دائر کر کے عہدے سے ہٹانے کے لیے کہا تھا۔

